معرکہ حق میں ناکامی چھپانے کیلئے بھارت کا پاکستان میں پراکیسز کا بے دریغ استعمال
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد:فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں دہشت گرد حملے، بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق معرکہ حق میں ناکامی کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے اپنی پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال شروع کر دیا، بلوچستان میں بھارتی سرکردہ فتنہ الہندوستان معصوم بلوچوں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے لگی۔
بھارت منظم منصوبے کے ساتھ سپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کروا رہا ہے، مزدوروں کا ناحق قتل، جعفر ایکسپریس ٹرین، اے پی ایس بس خصداراورسوراب حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، فتنہ الہندوستان کے حملے کے بعد بھارتی میڈیا پر وارفیئرچلنا شروع ہو جاتی ہے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں ہر حملے کے بعد بھارتی میڈیا اسے خوب اچھالتا ہے، ہر حملے سے پہلے اور بعد میں بھارتی سوشل میڈیا ان خبروں کو پھیلاتا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پوری طرح متحرک نظر آتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جعلی اور اے آئی ویڈیوز تک چلائیں، یہ تمام شواہد فتنہ الہندوستان کے ہر حملے کی منظم بھارتی منصوبہ بندی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں، فتنہ الہندوستان کے ہر حملے پر بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا دہشت گردوں کے بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں بھارتی میڈیا ہر حملے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔