کراچی: فوڈ ڈیلیوری بوائے کو اٹھک بیٹھک کروانے کے بعد گولی مار کر قتل کردیا گیا، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے علاقے حسین آباد میں فوڈ ڈیلیوری کیلئے آنیوالے نوجوان سے اٹھک بیٹھک کروانے کے بعد اسے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حسین آباد میں فوڈ ڈیلیوری بوائے حارث کے قتل کیس میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا، حارث کو گزشتہ روز حسین آباد میں قتل کیا گیا تھا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سینٹرل کا کہنا ہے کہ جرم چھپانے اور قانون کو گمراہ کرنے کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان کی مدد سے مرکزی ملزم دلاور کی تلاش شروع کردی ہے۔
ایس ایس پی سینٹرل کا کہنا ہے کہ دو ملزمان نے واقعہ کو ڈکیتی اور 2 نے اندھی گولی کا واقعہ بتایا تھا، حارث گرفتار ملزمان کے دوست ملزم دلاور کی گولی کا شکار بنا، حارث فوڈ ڈیلیوری دینے آیا تھا، دلاور نے اسلحہ کے زور پر ہراساں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم دلاور نے اسلحہ کے زور پر حارث سے اٹھک بیٹھک کروائی، حارث نے معافی تلافی کرنے کی کوشش کی تو ملزم نے فائرنگ کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔