Express News:
2026-06-03@04:06:26 GMT

روشن اور تاریک پہلو (آخری حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

ایسے لوگ جان لیں کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ سورۃ الطلاق میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں بتایا ہے جنھوں نے اللہ کے احکام کو نہیں مانا اور اپنی من مانی کی۔

’’ اورکتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا اور انھیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، چنانچہ انھوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کے اعمال کا آخری انجام نقصان ہی نقصان ہوا۔‘‘

اللہ تعالیٰ آیت نمبر 10(مع تفسیر) میں فرماتے ہیں ’’ اور آخرت میں ہم نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، لہٰذا اے عقل والو! جو ایمان لے آئے ہو، اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ نے تمہارے پاس ایک سراپا نصیحت بھیجی ہے، یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق طے کردیا ہے۔‘‘

آج ہمارا معاشرہ برائیوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے، کچھ تو لوگوں کی اپنی جہالت ہے اور رہی سہی کسر چینلز نے پوری کر دی ہے، بہن اور سالیوں کے پاکیزہ رشتوں کے تقدس کے علاوہ ساس، سسر کا رشتہ بھی بہو کے لیے قابل احترام ہے، گویا وہ ان کی بیٹی کی ہی طرح اہمیت رکھتی ہے، اور سسر یا دیور کی بری نگاہ دین و دنیا میں تباہی کے مترادف ہے۔

کتنے ہی ڈرامے ایسے نشر ہو چکے ہیں اور مزید یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ وہ دور چل رہا ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیم کو یکسر بھلا دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ معصوم بچیاں اور بیٹیاں اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیا کریں جیسے ان سے پہلے بالغ ہونے والے بچے اجازت لیتے رہے ہیں، اللہ اسی طرح تمہارے سامنے آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

بیٹے ہوں یا بیٹیاں ایک خاص فاصلہ اپنے والدین سے ضروری ہے، لیکن زمانہ شیرخواری سے بچپن یعنی دس،گیارہ سال تک وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک ساتھ بستر پر لیٹ بیٹھ سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت بھی نہ کریں ان کی عزت و احترام ان کے ذاتی کام کرنا فرض ہے کہ اللہ اپنی اس آیت کے ذریعے احساس دلاتا ہے کہ جس طرح انھوں نے تمہیں بچپن میں پالا پوسا تھا اور ان کے سارے کام کیے تھے جب تم ایک گوشت کے لوتھڑے کی مانند تھے۔ بے شمار اولادیں ایسی بھی لائق فائق ہیں جو اپنے بیمار والدین کے لیے خدمت گار نہیں رکھتے ہیں بلکہ سارے کام انجام دے کر اپنے لیے جنت کی راہیں ہموار کر لیتے ہیں۔

ٹی وی پروگراموں کے کردار ’’عدت‘‘ پوری کرنے سے مبرا نظر آتے ہیں اور یہ ہی حال ہمارے معاشرے کا ہے شوہر کے انتقال یا طلاق کے بعد عدت کے احکام پر عمل کرنا غیر ضروری سمجھ لیا گیا ہے، ایک ہفتہ بھی نہیں گزرتا ہے وہ بن سنور کر شادی بیاہ میں ایسے شرکت کرتی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے، جانوروں کے مرنے پر بھی لوگ دکھی ہو جاتے ہیں اور کئی ہفتوں غم میں گزارتے ہیں۔ 

چونکہ پالتو جانوروں سے محبت فطری بات ہے، اب بھلا شوہر کا کتے، بلی یا دوسرے جانور، ان سے کیا مقابلہ؟ دکھی ہونا تو دور کی بات ہے غم اور محرومی کا اظہار بھی انھیں بے مقصد نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بات تمام بیواؤں اور مطلقہ خواتین کے لیے لاگو نہیں ہوتی ہے، بے چاری بے شمار خواتین تو شوہر سے جدائی کے بعد اس کی یاد میں بسر کرتی ہیں اور دوسری شادی کرنا، یا دنیا کے رسم و رواج، شادی بیاہ اور تہواروں میں خوشی منانا اپنے لیے شجر ممنوعہ سمجھ لیتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس طریقے کو پسند نہیں فرمایا ہے۔ ہر کام اعتدال اور اخلاق وتہذیب کے دائرے میں ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔

 ایسے ایسے پروگرام دکھائے جاتے ہیں کہ الامان۔ حاضرین اور اینکر پرسن اور ناظرین سب ہی لطف اٹھاتے ہیں، گفتگو میں تہذیب نہیں، لباس مغربی طرز کا، دوپٹہ تو عرصہ دراز سے غائب ہو چکا، جو کبھی ایک شانے پر جھول رہا ہوتا تھا، اب اس کی بھی چھٹی۔ اگر کہا جائے کہ لباس سے کچھ نہیں ہوتا ہے، ہم دل سے مسلمان ہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں یہ نہیں فرماتا کہ علی الحیاوالایمان۔

یعنی ’’حیا‘‘ ایمان کا حصہ ہے اور اپنی زینت کو چھپاؤ، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، ایسے زیور نہ پہنو، جو بجتے ہوں۔ شادیوں کے معاملے میں بھی لڑکیاں اپنی من مانی کرتی نظر آتی ہیں، اچھے اچھے رشتوں کو ٹھکرا کر والدین کو شرمندہ اور دکھ سے ہمکنار کرتی ہیں، اپنے والدین سے ہم کلام ہوتے ہوئے ذرہ برابر لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بھی ایسی ہی تیز ترار لڑکیاں سامنے آئی ہیں، وہ جو چاہتی ہیں کرتی ہیں وہ والدین کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں۔ آج کی اولادوں نے اپنے آپ کو عقل کل سمجھ لیا ہے اور ان کا یہ عمل انھیں نیکی اور شرافت سے دور بہت دور لے جاتا ہے چونکہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی عذاب کا باعث ہوتی ہے۔

جب سے اسمارٹ موبائل آئے ہیں مزید تباہی کے در وا ہوئے ہیں۔ حکومت اگر اپنے ملک اور اپنی رعایا سے مخلص ہے تب وہ ان حالات پر نہ صرف یہ کہ توجہ دے بلکہ تدارک بھی کرے، ایسا کرنا اپنے ملک کو استحکام بخشنا ہے انھی نوجوانوں کو نہ صرف یہ کہ اپنے خاندان کی حفاظت کرنا ہے بلکہ برائی کی جڑوں کو کاٹنا ناگزیر ہے۔ ملک ایسے ہی پھلتے پھولتے اور خوشحال نہیں ہوتے ہیں جب تک کہ حکومت اور اس کی رعایا مل جل کر کام نہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اپنے والدین اللہ تعالی کرتی ہیں ہیں اور اور ان کے لیے ہے اور

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق