سیالکوٹ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون 2025ء ) سیالکوٹ سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 52 میں ضمنی اتنخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 52 میں ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ صبح 8 بجے سے جاری ہے، اس نشست پر مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی رہنماؤں سمیت 14 امیدوار مدمقابل ہیں، انتخابی حلقے میں سمبڑیال اور ڈسکہ کی 18 یونین کونسلز شامل ہیں، یہاں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حلقے میں ن لیگ، پی ٹی آئی اور پی پی پی تینوں بڑی جماعتوں نے انتخابی مہم میں بڑے جلسوں کا انعقاد کیا، اس دوران ان پارٹیوں کے سیاسی قائدین بھی اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک رہے، حلقے کے ووٹرز بھی ضمنی الیکشن میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں عام انتخابات جیسا ماحول دیکھا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ارشد وڑائچ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی ہے، جس کے بعد ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن نے ان کی بیٹی حنا ارشد وڑائچ کو یہاں امیدوار نامزد کیا ہے، حنا ارشد کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فاخر نشاط میدان میں ہیں، اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف کامران زاہد چیمہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔

                                                                                                     .

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مسلم لیگ ن

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار