بال کھانے والی لڑکی کا آپریشن، کون سا ورلڈ ریکارڈ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
ایس ایم ایس اسپتال (جے پور، بھارت) کے ڈاکٹروں نے ایک 14 سالہ لڑکی کے معدے سے 210 سینٹی میٹر لمبا بالوں کا گچھا (ٹریکو بیزوئر) کامیابی سے نکال لیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی خاتون نے سب سے لمبے بالوں کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا
جو دنیا میں اب تک ریکارڈ کیا گیا سب سے لمبا بالوں کا گچھا تصور کی جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ لڑکی اتر پردیش کے آگرہ ضلع کے بارارا گاؤں کی رہائشی ہے اور دسویں جماعت کی طالبہ ہے۔
لرکی ایک نفسیاتی بیماری ’پیکا‘ کا شکار ہے، جس میں مریض غیر خوردنی اشیا کھانے کی عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لڑکی نے چھٹی جماعت سے اسکول میں چاک کھانا شروع کیا، بعد میں یہ سلسلہ بالوں، لکڑی کے ٹکڑوں، ربڑ بینڈز، پتھروں، دھاگوں اور دیگر غیر ضروری اشیاء کے استعمال تک بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی نوجوان نے’فل بک‘ کی تیاری سے ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
لڑکی کو ایک ماہ سے زائد عرصے سے پیٹ میں درد اور قے کی شکایت تھی، جس کے بعد اسے ایس ایم ایس ہسپتال لایا گیا۔ معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے اس کے پیٹ میں ایک سخت گٹھلی محسوس کی، جو معدے سے ناف اور دائیں اوپری حصے تک پھیلی ہوئی تھی۔ سی ای سی ٹی اسکین سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے میں ایک غیر معمولی شے موجود ہے۔
سرجن ڈاکٹر جیون کنکاریا کے مطابق، بالوں کی یہ گچھا چھوٹی آنتوں تک الجھا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اسے ایک ہی ٹکڑے میں نکالنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اگر یہ ٹوٹ جاتا تو آنتوں میں کئی جگہوں پر چیرا لگانا پڑتا۔
تاہم 2 گھنٹے طویل آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے اسے کامیابی سے ایک ہی ٹکڑے میں نکال لیا، اور اس عمل میں خون کی منتقلی کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔ لڑکی کی حالت اب بہتر ہے اور جلد ہی اسے ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔
ڈاکٹر کنکاریا، جن کے پاس سرجری کے 4 گنیز ورلڈ ریکارڈز ہیں، نے بتایا کہ وہ اس کیس کو بھی گنیز ورلڈ ریکارڈ کے لیے پیش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آگرہ بھارت ٹریکو بیزوئر جے پور گنیز ورلڈ ریکارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت ٹریکو بیزوئر جے پور گنیز ورلڈ ریکارڈ ورلڈ ریکارڈ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔