سمبڑیال کا ضمنی الیکشن (ن) لیگ بڑے مارجن سے جیتے گی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ سمبڑیال کا ضمنی الیکشن مسلم لیگ (ن) بڑے مارجن سے جیتے گی۔
اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے بعد شیخوپورہ سمیت تمام ضمنی الیکشن بھی مسلم لیگ (ن) ہی بڑی لیڈ سے جیتی تھی، پنجاب کے عوام مریم نواز پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، جو جماعت پنجاب میں 400 ووٹ لیتی وہ بھی دھاندلی کی شکایات کرتی ہے، اللہ کی شان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی شدید مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں، اسی مایوسی اور ڈپریشن کی وجہ سے الٹے سیدھے بیانات جاری کروا کر چیلوں کا لہو گرماتے ہیں، پوری قوم جان چکی بشریٰ بی بی سزا یافتہ کرپٹ خاتون اول ڈیکلیئر ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے خاتون اول کے عہدے کو ”کرپشن کی ٹھیکیدار خاتون“ کے طور پر استعمال کیا، سپہ سالار کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے بانی پی ٹی آئی نفرت اور جھوٹ کا پرچار کرتے قرآنی آیات کا بھی غلط حوالہ دے رہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سپہ سالار کی قیادت میں پاک فوج نے پانچ گنا بڑے دشمن پر تاریخی فتح حاصل کی ہے، مذہبی ٹچ دینا بانی پی ٹی آئی کا پرانا وطیرہ ہے، ڈیل اور این آر او جیسے الفاظ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والا شخص آج خود ڈیل کا متلاشی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔