ایلون مسک نے نشے کے متعلق اخباری رپورٹ کو ’جھوٹ‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اپنے متعلق ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کو ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیتے ہوئے منشیات کے استعمال کی تردید کی ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایلون مسک نے 2024 کی صدارتی مہم کے دوران بھاری مقدار میں کیٹامین، ایکسٹسی، اور مشرومز جیسی نشہ آور اشیاء استعمال کیں، جس سے ان کی صحت پر منفی اثرات پڑے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مسک اکثر ادویات سے بھرا ایک ڈبہ ساتھ رکھتے تھے اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ایک اہم کردار نبھاتے ہوئے بھی ممکنہ طور پر منشیات استعمال کیں۔
ایلون مسک نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا:"واضح طور پر بتا دوں: میں کوئی نشہ نہیں کر رہا! نیو یارک ٹائمز مکمل جھوٹ بول رہا ہے۔"
انہوں نے اعتراف کیا کہ چند سال پہلے انہوں نے ڈاکٹری نسخے کے تحت کیٹامین کا استعمال کیا تھا تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے نکل سکیں، لیکن وہ عرصہ ہوا اسے چھوڑ چکے ہیں۔
ایلون مسک نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران آنکھ پر سوجن کے ساتھ شرکت کی، جس پر میڈیا میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔
انہوں نے وضاحت دی کہ یہ چوٹ انہیں اپنے بیٹے سے کھیلنے کے دوران لگی، جب انہوں نے بیٹے سے مذاقاً کہا کہ "مجھے چہرے پر مارو" — اور بیٹے نے واقعی مار دیا۔
ایک رپورٹر نے جب صدر ٹرمپ سے مسک کی منشیات کے استعمال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:"مجھے اس کا علم نہیں تھا، لیکن ایلون ایک زبردست انسان ہیں۔"
یاد رہے، ایلون مسک اس سے قبل بھی کیٹامین کے استعمال کا اعتراف کر چکے ہیں اور اسے ذہنی کیفیت بہتر بنانے میں مفید قرار دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے استعمال کی انہوں نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔