والدہ نے کبھی پابندی نہیں لگائی، علیزے شاہ کا لباس پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
مقبول ماڈل و اداکارہ علیزے شاہ نے حالیہ دنوں میں اپنے لباس پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بچپن سے ہی ایسے کپڑے پہنے ہیں اور ان کی والدہ نے کبھی ان پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی۔
علیزے شاہ نے انسٹاگرام پر متعدد اسٹوریز پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اپنی مرضی سے لباس پہننے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ کسی کی منظوری کی محتاج نہیں۔
علیزے شاہ نے لکھا کہ میں نے بچپن سے ہی بغیر آستینوں کے کپڑے، شارٹس اور اسکرٹس پہنی ہیں، میری والدہ نے کبھی مجھ پر روایتی لباس مسلط نہیں کیا، والدہ نے محبت اور آزادی کے ساتھ پرورش دی، نہ کہ پابندیوں کے ساتھ۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ صرف لباس کی بات نہیں، یہ کنٹرول کی بات ہے، لوگ صرف اس لیے پریشان ہیں کہ میں پُراعتماد ہوں؟ میں کسی کی قبولیت کی محتاج نہیں، جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے، وہ اپنی محنت سے حاصل کیا ہے اور اس کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
علیزے شاہ نے کہا کہ میری زندگی، میری مرضی ہے، جو لوگ دوسروں پر فتوے لگاتے ہیں، انہیں پہلے اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے۔
اداکارہ نے قرآن کی آیت ’دین میں کوئی زبردستی نہیں‘ (البقرہ: 256) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی خاتون کو برقع پہننے یا اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور کرنا اسلام نہیں سکھاتا۔
انہوں نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا اگر آپ کو لگتا ہے کہ خواتین آن لائن غلط کر رہی ہیں، تو اداکاراؤں یا انفلوئنسرز کو دیکھنا بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے، اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے اعمال پر غور کریں۔
خیال رہے کہ علیزے شاہ کو ان کے لباس کی وجہ سے اکثر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے قبل بھی وہ مختلف مواقع پر اپنے انداز اور ملبوسات کے باعث تنقید کی زد میں آچکی ہیں، تاہم ہر بار انہوں نے اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیزے شاہ نے انہوں نے والدہ نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔