معرکہ حق میں ناکامی چھپانے کیلئے بھارت کا پاکستان میں پراکیسز کا بے دریغ استعمال
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
ذرائع کے مطابق معرکہ حق میں ناکامی کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے اپنی پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال شروع کر دیا، بلوچستان میں بھارتی سرکردہ " فتنہ الہندوستان " معصوم بلوچوں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے لگی۔ بھارت منظم منصوبے کے ساتھ سپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کروا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ " فتنہ الہندوستان " کے بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے مزید شواہد سامنے آگئے۔ ذرائع کے مطابق معرکہ حق میں ناکامی کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے اپنی پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال شروع کر دیا، بلوچستان میں بھارتی سرکردہ " فتنہ الہندوستان " معصوم بلوچوں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے لگی۔ بھارت منظم منصوبے کے ساتھ سپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کروا رہا ہے، مزدوروں کا ناحق قتل، جعفر ایکسپریس ٹرین، اے پی ایس بس خصدار اور سوراب حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، " فتنہ الہندوستان " کے حملے کے بعد بھارتی میڈیا پر وار فیئر چلنا شروع ہو جاتی ہے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ " فتنہ الہندوستان " کے بلوچستان میں ہر حملے کے بعد بھارتی میڈیا اسے خوب اچھالتا ہے، ہر حملے سے پہلے اور بعد میں بھارتی سوشل میڈیا ان خبروں کو پھیلاتا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی " را " سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پوری طرح متحرک نظر آتے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جعلی اور اے آئی ویڈیوز تک چلائیں، یہ تمام شواہد " فتنہ الہندوستان " کے ہر حملے کی منظم بھارتی منصوبہ بندی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں، " فتنہ الہندوستان " کے ہر حملے پر بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا دہشت گردوں کے بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان بلوچستان میں بھارتی میڈیا میں بھارت ہر حملے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔