پاک بحریہ کی جانب سے غیر روایتی خطرات کیخلاف بندرگاہوں کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے مشقوں کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاک بحریہ کی جانب سے غیر روایتی خطرات کیخلاف بندرگاہوں کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے مشقوں کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 1 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ک بحریہ نے پاکستان کی تمام بڑی بندرگاہوں پر غیر روایتی خطرات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو روزہ مشقوں کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ ان مشقوں کا بنیادی مقصد اہم بحر تنصیبات کے تحفظ کے لئے طریقہ کار اور حربی حکمت عملی کو جانچنا اور موثر بنانا تھا۔ ان مشقوں میں پاک بحریہ کی مختلف یونٹس بشمول پاک میرینز، ایس ایس جی(این)، بحری اور فضائی اثاثہ جات نے مربوط اروائیوں میں حصہ لیا۔
مشق میں مختلف غیر روایتی خطرات اور حملوں کی صورت میں شرکت کرنے والی فورسز کے درمیان باہمی رابطے اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔مشقوں کے دوران کمانڈر کوسٹ رئیر ایڈمرل فیصل امین نے مختلف بندر گاہوں کا دورہ کیا اور مشق کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے حصہ لینے والی یونٹس کی پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی ہم آہنگی کو سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملکی بندر گاہوں اور بحری تنصیبات کا تحفظ نہ صرف قومی سلامتی بلکہ اقتصادی ترقی کے لئے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہ مشقیں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاک بحریہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے اور ملکی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لئے اپنی صلاحیتوں میں بتدریج جدت لا رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی سے ٹیلیفونک رابطہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ لیمی سے ٹیلیفونک رابطہ انسانیت کیخلاف جرائم، شیخ حسینہ واجد پر فرد جرم عائد پاکستان اور افغانستان کا باہمی اعتماد بڑھانے کیلئے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق سی ڈی اے میں شاہانہ فیصلے ، غریب عوام کے لیے میٹرو بس کے کرایوں میں اضافہ ، آفیسرز عید الاونس سے محروم،جبکہ بورڈ... مولانا فضل الرحمان کا کم عمری میں شادی کے قانون کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، فیلڈ مارشل
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر روایتی خطرات پاک بحریہ مشقوں کا
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔