پی پی 52ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پی پی 52ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 June, 2025 سب نیوز
سمبڑیال (سب نیوز)صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے حلقہ پی پی 52 کے ضمنی الیکشن میں پیپلزپارٹی کے صدر کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق حلقہ پی پی 52سیالکوٹ ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز کو اسٹیشنز سے نکالا جارہا ہے۔صوبائی الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف کے دھاندلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی رہنما ان الزامات کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد کے ساتھ الیکشن کمیشن میں شکایت درج کریں۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن تمام شکایات کا فوری ازالہ کرے گا، انتظامیہ کی جانب سے مختلف پولنگ اسٹیشنز کو بند کرنے کی خبر سراسر جھوٹ ہے۔ ضلعی مانیٹرنگ آفیسر نے کہا کہ پی پی 52 سیالکوٹ کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ پر امن طریقے سے جاری رہی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی پی 52 سیالکوٹ ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی جاری، ن لیگ آگے، پی ٹی آئی پیچھے پی پی 52 سیالکوٹ ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی جاری، ن لیگ آگے، پی ٹی آئی پیچھے پی ٹی آئی سرکس واپس آ چکا، وہی پرانا جھوٹ، ڈرامہ، نان اسٹاپ واویلا ہے، مریم اورنگزیب کی تنقید بہت جشن منا لیا اب مسئلہ کشمیرکوپہلی ترجیح بنانا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان بلوچستان میں تمام دہشت گرد تنظیموں کو فتنہ الہندوستان کا نام دیدیا گیا،وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا عوام کو سفر کی بہترین سہولیات کی فراہمی سی ڈی اے کی اولین ترجیح ہے، محمد علی رندھاوا بجٹ 2025-26،تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف اور سرکاری ملازمین کو خوشخبری ملنے کا امکان، مختلف تجاویز زیر غورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے الزامات کو الیکشن کمیشن
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز