Daily Ausaf:
2026-06-03@08:29:59 GMT

ریت پر بنی اسرائیلی فرعونیت

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

ریاست عبرت کی دہلیز پر تاریخ انسانیت کا ورق الٹیں تو ہمیں فرعونوں، نمرودوں، اور ہٹلروں کی کئی داستانیں ملتی ہیں جو طاقت کے نشے میں چور ہو کر یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ دائمی ہیں، ناقابل شکست ہیں اور زمین پران کا ہی حکم چلے گا۔ مگر وقت نے گواہی دی کہ ظلم کا کوئی نظام قائم نہیں رہتا اور ہرجابرحکمران ایک نہ ایک دن اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ آج کا اسرائیل اسی فرعونی غرور، نمرودی تکبر اور ہٹلری ظلم کا نیا چہرہ ہے۔ جو فلسطین کی مقدس سرزمین پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑ رہا ہے کہ انسانیت بھی شرمسار ہےلیکن اب وقت قریب آچکا ہےجب یہ صہیونی ریاست اپنے ہی ظلم کے بوجھ تلے دب کر فنا کے گھاٹ اترے گی۔غزہ کی پٹی جو کسی زمانے میں زیتون کے درختوں، مسکراہٹوں اور اذانوں کی سرزمین تھی آج بارود،خون اورلاشوں سے بھرچکی ہے۔ اسرائیل نے اپنی سفاک افواج کے ذریعے یہاں زندگی کے ہر نشان کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ اسکول، ہسپتال، مساجد، رہائشی عمارتیں، حتی کہ بچوں کے جھولے بھی ان کی بربریت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ دنیا کے طاقتور ممالک کی خاموشی اور اقوامِ متحدہ کی بے بسی نے اسرائیل کو یہ پیغام دیا کہ وہ جو چاہےکرے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔مگر وہ بھول گئے کہ مظلوم کی آہ جب آسمان چیرتی ہے تو عرش ہلتا ہے۔ اسرائیل نے مسجدِ اقصی پر کنٹرول حاصل کر کے گویا دنیا بھر کے مسلمانوں کو للکارا ہے۔ یہ وہی مسجد اقصی ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیا کی امامت کی، جہاں سے معراج کا سفر شروع ہوا اور جس کی حرمت مسلمان اپنے خون سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جب قبلہ اول کو پامال کیا گیا، جب نعلین والے سپاہی اس مقدس مقام پر گھسے، جب قرآن کی تلاوت پر گولیاں چلیں اور جب سجدہ ریز نمازیوں کو گھسیٹا گیا تو گویا اسرائیل نے اپنی قبر آپ کھودنا شروع کر دی۔اب بات فقط ظلم کی نہیں رہی اب یہ معرکہ ایمان اور کفر کا بن چکا ہے۔ اسرائیل نے جس زمین پر قبضہ جما رکھا ہے وہ زمین اللہ تعالیٰ نے انبیا کرام علیہم السلام کی میراث کے طور پر مسلمانوں کے سپرد کی تھی۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب، حضرت دائود، حضرت سلیمان اور حضرت عیسی جیسے جلیل القدر انبیا نے اللہ کا پیغام عام کیا۔ اور یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہےکہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمین کے روحانی متولی ہیں۔ یہ قبضہ صرف زمین پر نہیں بلکہ تاریخ، روحانیت اور ایمان پر ہے اور یہ قبضہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔
آج فلسطینی بچے پتھروں سے مزاحمت کرتے ہیں، نوجوان شہادت کو گلے لگاتے ہیں اور مائیں اپنے بیٹوں کے کفن سی کر رکھتی ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو مرنا جانتی ہے مگر جھکنا نہیں۔ یہی ایمان، یہی صبر، اور یہی قربانی اسرائیل کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اسرائیل کو یہ گمان تھا کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی، آئرن ڈوم، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور عالمی حمایت اسےناقابل شکست بنا دے گی۔ مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ جو ٹیکنالوجی انسانیت کے خلاف استعمال ہو، وہ جلد یا بدیر بیکار ہو جاتی ہے۔آج فلسطینی مزاحمت نے اسرائیلی ٹیکنالوجی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اسرائیل کے دفاعی نظام ناکام ہو چکے ہیں، اس کی فوج کا مورال گر چکا ہے اور اس کی حکومت داخلی انتشار کا شکار ہے۔ یہاں سیاسی عدم استحکام، عوامی بغاوت، اور بین الاقوامی دبائو اس کے مستقبل کو تاریکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اسرائیل کی طاقت اب ایک سراب ہےاور فلسطینیوں کا عزم ایک حقیقت۔دنیا کے کونےکونے میں مسلمانوں کے دل فلسطین کے لیےدھڑک رہے ہیں۔ ترکی، ایران، پاکستان، انڈونیشیا، ملیشیا، قطر، الجزائر، تیونس اور دیگر ممالک میں عوامی بیداری ایک نئی روح لے کر اٹھی ہے۔ سوشل میڈیا نے صہیونی بیانیے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ نوجوان نسل اب حقیقت سے واقف ہے اور وہ اس جنگ کو صرف فلسطینیوں کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی جنگ سمجھتی ہے۔ آج اگر ایک بچہ غزہ میں شہید ہوتا ہے تو وہ صرف فلسطین کا نقصان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کا زخم ہوتا ہے۔
یہودی ریاست نےجس فرعونی غرور کےساتھ اپنےاردگرددیواریں کھینچ کر خود کو محفوظ سمجھا تھا وہ دیواریں اب اس کے لیے قفس بن چکی ہیں۔ دنیا بھر کے باخبر لوگ یہاں تک کہ انصاف پسند یہودی دانشور بھی اسرائیل کی نسل پرستی اور جنگی جرائم پر چیخ اٹھے ہیں۔ یہ ظلم اب چھپایا نہیں جاسکتا، یہ بربریت اب قابل جواز نہیں رہی۔ اقوام عالم کی بے حسی اب اسرائیل کے خلاف عالمی تحریک کو جنم دے چکی ہے جو رفتہ رفتہ ایک طوفان میں بدل رہی ہے۔تاریخی اعتبار سے بھی کوئی ریاست ظلم، قبضے اور نسل کشی پر قائم نہیں رہ سکی۔ روم، فارس، منگول، برطانیہ سبھی نے یہی سمجھا کہ ان کی طاقت دائمی ہے لیکن وقت نے انہیں تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ اسرائیل بھی اسی قانون قدرت کی زد میں آ چکا ہے۔ اس کا انجام قریب ہے کیونکہ وہ ظلم کی انتہا کرچکا ہے۔ اب اس کی بقا ناممکن ہے کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ اس وقت کو صرف تماشائی بن کر نہ گزاریں۔ فلسطین کی حمایت محض جذباتی نعرے بازی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں عملی طور پر بھی اپنےمظلوم بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ سیاسی،سفارتی،معاشی اور معلوماتی محاذ پر اسرائیل کا بائیکاٹ کر کے، فلسطینیوں کی حمایت میں آواز بلند کر کے اور اسلامی ممالک کو متحد کر کے ہم اس معرکے کو فتح میں بدل سکتے ہیں۔
یاد رکھیں مسجد اقصی صرف فلسطین کا نہیں پوری امت مسلمہ کا مرکز ہے۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیارکی تو کل یہ آگ ہمارےگھروں تک پہنچ سکتی ہے۔ اسرائیل کے خلاف صرف فلسطینی نہیں لڑ رہے یہ معرکہ حق و باطل کا ہے اور اس میں ہر مسلمان کی شرکت لازمی ہے۔ جس طرح بہادر فلسطینی بہن بھائیوں، بچوں بزرگوں نے ظلم تو سہہ لیا ،اپنی جانیں رب رحمان کے حضور پیش تو کر دیں مگراپنے ایمان کا سودا نہ کیا، اپنی پاک مٹی سے ہٹنا یا بھاگنا گوارا نہ کیا اس بات کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ظلم کی یہ سیاہ رات جلد ختم ہوگی اور فلسطین کی روشن صبح ضرور طلوع ہوگی۔ اسرائیل کا زوال صرف ایک وقت کا انتظار ہے، کیونکہ “ان ربک لبالمرصاد”۔ ظالم کتنی ہی دیواریں کھڑی کرے، اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اور جب حق آتا ہے، تو باطل مٹ کر رہتا ہے ۔ یہی وعدہ ہے اور یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ انشا اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: صرف فلسطین اسرائیل نے اور یہ ہے اور

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان