اسلام آباد:

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات، بشمول بہار میں دیے گئے بیانات، ایک انتہائی تشویشناک ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں اور امن کے بجائے دشمنی کو ترجیح دیتے ہیں۔

بھارتی قیادت اور بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی بھی کوشش حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کے دہشت گردی کی پشت پناہی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ریکارڈ سے بخوبی آگاہ ہے، ان حقائق کو کھوکھلی کہانیوں یا توجہ ہٹانے کی کوششوں سے چھپایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی خطرہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ اس بنیادی مسئلے کو نظرانداز کرنا خطے کو بداعتمادی اور ممکنہ تصادم کی راہ پر ڈالنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کی پیش رفت نے ایک بار پھر جنگی جنون اور جبر کی حکمت عملی کی ناکامی کو ثابت کر دیا ہے۔ بھارت دھمکیوں، غلط بیانی یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سنجیدگی، ضبط اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم