بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جب کہ درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کا راج ہے اور آئندہ چند روز کے دوران موسم مزید گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے جنوبی اضلاع میں موسم خاص طور پر شدید گرم رہنے کا امکان ہے جب کہ بعض علاقوں میں تیز اور گرد آلود ہوائیں بھی چلنے کی بھی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے بیشتر شہروں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں ریکارڈ کیا گیا جو 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جبکہ تربت میں 47، نوکنڈی میں 38، اور گوادر میں 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔دیگر شہروں میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہی۔ کوئٹہ اور ژوب میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، قلات میں درجہ حرارت 28، زیارت میں 25، چمن میں 33 اور جیوانی میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور گرمی سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اپنائیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال رواں ہفتے کے دوران برقرار رہنے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے