اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم سی آئی کو پراپرٹی ٹیکس میں اضافے سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم سی آئی کو پراپرٹی ٹیکس میں اضافے سے روک دیا۔
وفاقی دارالحکومت کی عدالت عالیہ کے سامنے بلدیاتی انتخابات اور میونسپل کارپوریشن کے اختیارات کے معاملے پر سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات اور میونسپل کارپوریشن کے اختیارات کے معاملے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے متعدد کیسز کو یکجا کر کے سماعت کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل،الیکشن کمیشن، سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے وکلاء اور نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن اسلام آباد فوڈ چین بائیکرز کو ہراساں نہ کرے، عدالت نے میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کا4 مارچ کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا۔
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق رپورٹس عدالت میں جمع کرادیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن نےاسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے 120 دن کی ٹائم لائن دی تھی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا ہے کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن ایکٹ 2025 اسٹینڈنگ کمیٹی میں زیر بحث ہے، اسٹینڈنگ کمیٹی سے پھر یہ بل پارلیمنٹ آئے گا اور اس پر بحث ہوگی۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ترمیم کتنے عرصے میں ہوجائے گی؟
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ 26یں آئینی ترمیم تو جلد ہوگئی تھی، یہ والی ترمیم بھی جلد ہوگی یا سست؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا ہے کہ یہ ترمیم بھی جلد ہی ہو جائے گی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ جب منتخب مقامی حکومت ہی نہیں تو پراپرٹی ٹیکس کیسے بڑھ سکتا ہے؟
جسٹس کیانی نے کہا کہ مقامی حکومت کے منتخب ہونے تک پراپرٹی ٹیکس کی پرانی شرح لاگو رہے گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 24 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل میونسپل کارپوریشن بلدیاتی انتخابات پراپرٹی ٹیکس
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔