محکمہ صحت سندھ نے ہدایت کی ہے کہ مویشی منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ اور پوری آستینوں والا لباس پہنیں، مویشی منڈی سے واپس آ کر لازمی نہائیں اور کپڑے تبدیل کریں، ذبح شدہ جانور کا خون مکمل طور پر بہہ جانے دیں، جانور کا گوشت دھوتے ہوئے دستانوں کا استعمال کریں اور گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ میں عیدالاضحیٰ کے دوران کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی گئی۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ بھر کی 53 مویشی منڈیوں میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے کیا گیا اور کانگو وائرس کے خطرے کے پیش نظر 66 کمیونٹی سیشنز منعقد کیے گئے۔ محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کھال میں چپکی ہوئی ٹک سے پھیلنے والا کانگو وائرس خطرناک ہے، کانگو وائرس سے شرح اموات 10 سے 40 فیصد تک ہے، کانگو وائرس جانوروں کی کھال میں چپکی ہوئی ٹک میں پایا جاتا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق کانگو وائرس متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، مویشیوں کے قریب رہنے والوں میں کانگو سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، گردن، کمر اور پٹھوں میں درد اور کھچاؤ شامل ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ جسم پر سرخ دھبے، متلی، قے، گلے کی سوزش کانگو وائرس کی علامات ہیں ان کے علاوہ مسوڑوں، ناک اور اندرونی اعضاء سے خون نکلنا بھی کانگو وائرس کی علامات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کانگو وائرس سے

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا