سندھ: عیدالاضحیٰ کے دوران کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے آگاہی مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
سندھ میں عیدالاضحیٰ کے دوران کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی گئی۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ بھر کی 53 مویشی منڈیوں میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے اسپرے کیا گیا اور کانگو وائرس کے خطرے کے پیش نظر 66 کمیونٹی سیشنز منعقد کیےگئے۔
محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کھال میں چپکی ہوئی ٹک سے پھیلنے والا کانگو وائرس خطرناک ہے، کانگو وائرس سے شرح اموات 10 سے 40 فیصد تک ہے، کانگو وائرس جانوروں کی کھال میں چپکی ہوئی ٹک میں پایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے مویشی منڈی جانے والے افراد کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی اقدام کریں، ماہرین صحت بلوچستان: رواں سال کانگو وائرس کا دوسرا کیس رپورٹمحکمہ صحت سندھ کے مطابق کانگو وائرس متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، مویشیوں کے قریب رہنے والوں میں کانگو سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، گردن، کمر اور پٹھوں میں درد اور کھچاؤ شامل ہے۔
محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ جسم پر سرخ دھبے، متلی، قے، گلے کی سوزش کانگو وائرس کی علامات ہیں ان کے علاوہ مسوڑوں، ناک اور اندرونی اعضاء سے خون نکلنا بھی کانگو وائرس کی علامات ہیں۔
محکمہ صحت سندھ نے ہدایت کی ہے کہ مویشی منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ اور پوری آستینوں والا لباس پہنیں، مویشی منڈی سے واپس آ کر لازمی نہائیں اور کپڑے تبدیل کریں، ذبح شدہ جانور کا خون مکمل طور پر بہہ جانے دیں، جانور کا گوشت دھوتے ہوئے دستانوں کا استعمال کریں اور گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کانگو وائرس سے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔