بھارت کے پاکستان مخالف من گھڑت بیانیے کو اس بار سچ کا روپ لینے نہیں دیا جائیگا: سینیٹر شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
نیویارک( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاکستان مخالف من گھڑت بیانیے کو اس بار سچ کا روپ لینے نہیں دیا جائیگا۔ الزامات کو جنگ کا جواز بنانے کا سلسلہ معمول نہیں بننے دیا جا سکتا، ناصرف دو ممالک بلکہ پوری دنیا کو جنگ اور ہائپر نیشنل ازم سے خطرے میں ڈالنے کی بھارتی پالیسی ناقابل قبول ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق پاکستان کے خلاف بھارتی جھوٹا بیانیہ زمین بوس کرنے کے مشن پر نیویارک میں موجود پاکستانی سفارتی وفد کی رکن سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی زیرِ قیادت میں پاکستانی وفد نے امریکی دورے کا آغاز کر دیا، وفد یو این ہیڈ کوارٹر کے گرد بین الاقوامی برادری کو سفارتی ایجنڈا دینے میں سرگرم ہے۔ پاکستانی وفد نے اس پر زور دیا کہ ملاقاتیں محض تصویری مواقع نہیں، اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہوں، پاکستان کی حیثیت ایک ذمہ دار اور مستحکم مڈل پاور کے طور پر اُجاگر کی جا رہی ہے، پائیدار ترقی پاکستان کے استحکام کی بنیاد ہے۔پاکستان علاقائی امن و سلامتی میں واضح دلچسپی رکھتا ہے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، بھارت کے پاکستان مخالف من گھڑت بیانیے کو اس بار سچ کا روپ لینے نہیں دیا جائے گا۔ دہشتگردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز
شیری رحمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف طویل ترین زمینی جنگ لڑی ہے، شہید بے نظیر بھٹو بھی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئیں، ہم نے خون اور سرمایہ دونوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔بھارت کے جھوٹے بیانیے ہمیں کسی فلمی سکرپٹ کا حصہ نہیں بنا سکتے، وزیرِ اعظم نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اہم ذمہ داری سونپی ہے، بلاول بھٹو زرداری بھارتی خلاف ورزیوں پر واضح مؤقف پیش کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے پانی، کشمیر اور جنگ و امن کے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر ٹھوس مؤقف پیش کیا ہے، دوران جنگ بھارتی جارحیت پر بلاول کا ردِعمل واضح، مدلل اور مؤثر رہا ہے۔
معروف ماڈل جنت امین خان کو کراچی کے مال میں جانا مہنگا پڑ گیا، مداحو ں نے گھیر لیا
انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ذمہ دار ایٹمی ریاست امن پر مبنی وسیع اور منصفانہ مکالمے پر یقین رکھتا ہے، امن کےلیے بات چیت اہم ہے، لیکن مودی کی خطرناک اور غیرذمہ دار پالیسیوں پر خاموش نہیں رہا جائے گا، پاکستان دنیا کو بھارتی پالیسیوں کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرتا رہے گا، چاہے جنگ ہو یا سفارتی محاذ، ہم ہر محاذ پر دفاع کرنا جانتے ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارت کے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب