وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت کیسکو اجلاس ، صوبے میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2025ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کا اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبے میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام، عوامی شکایات، اور دور دراز علاقوں میں برقی ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو سید یوسف شاہ نے کیسکو کو درپیش مسائل، بجلی کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل پر تفصیلی بریفنگ دی وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کیسکو حکام کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ترسیلی نظام میں موجود خامیوں کو فوری دور کرنے کے لئے جامع اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کیسکو عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے اور شکایتی نظام کو اس انداز سے مؤثر بنایا جائے کہ عام شہریوں کی شکایات بروقت سنی اور دور کی جا سکیں۔(جاری ہے)
وزیر اعلیٰ نے موسم گرما میں غیر ضروری لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بے جا بندش سے گریز کرنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا کیسکو کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے ڈیرہ بگٹی، بیکڑ سمیت صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں جاری برقی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اور پائیدار منصوبہ بندی کی جائے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور اس مقصد کے لئے تمام پبلک سیکٹر اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور فرض شناسی سے ادا کرناہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں بجلی کی وزیر اعلی
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔