بہادر بلوچوں کی حمایت سے فوج ہر دشمن کو کچل دیگی، فیلڈ مارشل: امن دشمنوں کو پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ملے گی: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد‘ کوئٹہ (خبر نگار خصوصی‘ نوائے وقت رپورٹ‘ اے پی پی) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا بھارت کی سپانسرڈ پراکسی جنگ اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ یہ ہماری قوم، ترقی اور امن کے خلاف چھیڑی جانے والی کھلی دہشتگردی کی مذموم کارروائی ہے۔ کوئٹہ میں جرگے سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ جو بھی دشمن ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے گا اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ قوم اور بہادر بلوچ عوام کی غیر متزلزل حمایت سے پاک فوج اندرونی ہو یا بیرونی ہر دشمن کو کچل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ہمارے پاس بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے ہاتھ ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ شمن کے ناپاک عزائم ہر صورت ناکام بنائیں گے۔ پاک فوج ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ امن ناقابل سودے بازی ہے۔ پاکستان کا مستقبل بلوچستان کے استحکام اور خوشحالی سے جڑا ہے۔ دورہ کوئٹہ کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور قربانیوں کی ستائش کی۔ فیلڈ مارشل نے کہا بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بلکہ کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے چاہے اندرونی ہو یا بیرونی۔ جرگے کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے حکومت اور افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی بھی کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ امن کے دشمنوں کو پاکستان کے اندر کام کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ پراکسی وار اب ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ ہمارے عوام، ہماری ترقی اور ہمارے امن کے خلاف دہشت گردی کی کھلی مذموم کارروائی ہے۔ ہمارے پاس بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے ہاتھ ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ دشمن کی یہ مذموم کوششیں قوم کے ساتھ مل کر ناکام بنائیں گے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کوئٹہ میں زہری آڈیٹوریم میں قبائلی عمائدین کے گرینڈ جرگے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مشترکہ طور پر خطاب کیا۔ مزید تفصیلات کے مطابق جرگہ کا اہتمام قبائلی قیادت کے ساتھ بات چیت اور بلوچستان میں سکیورٹی کی تبدیل ہوتی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں خاص طور پر بھارت کی جانب سے جاری پراکسی جنگ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بلوچستان میں ہندوستانی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیوں نے امن کو خراب کرنے، صوبے کو غیر مستحکم کرنے اور حکومت پاکستان اور مسلح افواج کی قیادت میں ترقیاتی اقدامات کو متاثر کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ الہندوستان جیسے دہشت گرد گروہ مقامی لوگوں کی حمایت چاہتے ہیں جس سے انہیں انکار کیا جانا چاہیے۔ عمائدین کی قیادت اور تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے نچلی سطح پر شمولیت اور اس بات کو یقینی بنانے کی مسلسل ضرورت کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کو کوئی سماجی جگہ نہ ملے۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی کامیابی اور طویل مدتی امن و استحکام کے لیے یہ انتہائی اہم تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کے دشمنوں کو پاکستان کے اندر کام کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ ان کے لیے ہمارا پیغام واضح ہے، حکومت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامیہ پاکستان کی مکمل حمایت کے ساتھ، دہشت گردی کے خلاف قوم کی جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور دہشت گردی کو فیصلہ کن انداز میں شکست دیں گے۔ بلوچستان میں خوشحالی کے لیے یادگار ترقیاتی پیکجز کے سلسلے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عوام تک حکومتی اقدامات کے اثرات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے قومی یکجہتی کے تحفظ میں بلوچستان کے عوام کے تاریخی کردار کی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ بھارت کی طرف سے منظم اور سپانسر کی گئی غیر ملکی حمایت یافتہ تخریب کاری کے خلاف چوکنا رہیں۔ وزیراعظم نے شہداء کے اہل خانہ کو مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔ وزیر اعظم نے انہیں یقین دلایا کہ دہشت گردوں، ان کے معاونین اور سہولت کاروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ جرگہ قبائلی عمائدین کی طرف سے حکومت پاکستان اور مسلح افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کے متفقہ عہد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور بلوچستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم کا خطاب علاقائی اور داخلی سلامتی کی ترقی کے درمیان پاکستان کے دفاعی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے گہرے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے ابھرتے ہوئے اور ہائبرڈ خطرات کے پیش نظر پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور تذویراتی دور اندیشی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ خاص طور پر بلوچستان جیسے حساس خطوں میں، جہاں بھارتی سپانسر شدہ دہشت گرد پراکسی ہمارے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ہماری ترقی اور خوشحالی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں کے ساتھ کے خلاف کے لیے امن کے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔