اسلام ٹائمز: سیمینار سے خطاب میں علماء مشائخ نے کہا کہ امام خمینیؒ نے استعماری قوتوں کیخلاف وحدت امت کیلئے ماہ ولادت رسول ربیع الاول میں ہفتہ وحدت منانے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں ملت اسلامیہ میں امریکہ اسرائیل و استعماری استبدادی استکباری شیطانی قوتوں کیخلاف اسلامی ممالک میں وحدت و بیداری کی فضا پیدا ہوئی، فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور شہدائے مقاومت کو کامیابی اور اسرائیل و امریکہ اور اس کے سہولت کاروں کو آج تک ذلت و رسوائی و بدترین شکست کا سامنا ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام بانی اسلامی انقلاب ایران آیت اللہ امام خمینیؒ کی 36ویں برسی کے موقع پر فلسطین کیلئے امام خمینیؒ کا کردار و خدمات سیمینار مرکزی صدر حجة الاسلام علامہ مرزا یوسف حسین کی زیر صدارت محاذ کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمدامین انصاری کی میزبانی میں نیو سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ، سیاسی زعماء ممتاز شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے ایران میں انقلاب کے بعد سب سے پہلے اسرائیلی سفارتخانے کو بند کیا اور آزادی القدس کی تحریک کو مضبوط منظم و فعال اور دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے جمعة الوداع کو یوم القدس منائے جانے کا فرمان جاری کیا۔ مقررین نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف حماس حزب اللہ و دیگر مقاومتی تحریکوں کا عالمی دباؤ کے باوجود ہر قسم کی دفاعی و مالی بھرپور امداد جاری رکھی، ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ امام خامنہ ای اور حکومت اسی تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں، امام خمینیؒ نے استعماری قوتوں کیخلاف وحدت امت کیلئے ماہ ولادت رسول ربیع الاول میں ہفتہ وحدت منانے کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں ملت اسلامیہ میں امریکہ اسرائیل و استعماری استبدادی استکباری شیطانی قوتوں کیخلاف اسلامی ممالک میں وحدت و بیداری کی فضا پیدا ہوئی، فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور شہدائے مقاومت کو کامیابی اور اسرائیل و امریکہ اور اس کے سہولت کاروں کو آج تک ذلت و رسوائی و بدترین شکست کا سامنا ہے۔

مقررین نے مزید کہا کہ القدس کی آزادی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف امام خمینیؒ اور ایران کا جرات مندانہ تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، سعودی عرب میں غیور شیوخ کی جانب سے فلسطین کے حق میں اور امریکی صدر ٹرمپ و اسرائیل سے متعلق سعودی حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور سعودی عوام میں بیداری خوش آئند و قابل تحسین ہے، پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر ایران و دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی جارحیت کیخلاف القدس کی آزادی کیلئے قائدانہ کردار ادا کریں اور اسلامی ایٹمی جوہری میزائلوں کا رخ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے سہولت کار غاصب قابض قاتل ظالم دہشتگرد اسرائیل کی جانب موڑ دیں۔ سیمینار سے مہمانان خصوصی مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، مولانا مفتی محمد داؤد، علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، صاحبزادہ مولانا منظرالحق تھانوی، علامہ سید سجاد شبیر رضوی، پاسٹر عمانوئیل صوبہ، علامہ محمد حسن شریفی، علامہ مرتضی خان رحمانی سلفی، محاذ کے صوبائی رہنما مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، مولانا مفتی اسدالحق چترالی، مصنف و محقق کالم نگار مولانا محمد عزیر بخاری، سواد اعظم اہلسنت یوتھ فورس کراچی کے صدر مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک و دیگر نے خطاب کیا۔  قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار