گزشتہ 48 گھنٹوں میں شہر کراچی 11 بار زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھا، مزید جھٹکے آنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
روشنیوں کا شہر کراچی ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھا ، رات 12بج کر 53 منٹ پر پھر زلزلہ آیا، جس کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی۔ لانڈھی میں کئی مکانات کی دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں۔ کراچی میں اتوار سے اب تک 11 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے آئندہ دو روز تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق حالیہ جھٹکے کا مرکز ڈی ایچ اے کے مشرق میں تقریباً 30 کلومیٹر دور اور 13 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ سب سے زیادہ جھٹکے قائد آباد، ملیر، سعود آباد، کھوکھرا پار، اسٹیل ٹاؤن، اور گلستانِ جوہر سمیت اطراف کے علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ اچانک لرزتی زمین نے شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا، اور بہت سے لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے محفوظ مقامات کی جانب دوڑتے دکھائی دیے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ان جھٹکوں کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان ریکارڈ نہیں ہوا، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ آفٹر شاکس ہیں جو آئندہ 48 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتے ہیں۔ گزشتہ شام سے شروع ہونے والی اس زلزلہ لہر میں اب تک سب سے زیادہ شدت 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: زلزلے کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔