کراچی: آج بھی موسم گرم و مرطوب رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
شہرِ قائد کراچی کا آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔
شہرِ قائد کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم شدید گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کراچی کی ہوا میں نمی کا تناسب 72 فیصد ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سمندری ہوائیں 20 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے چل رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ روز کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مرطوب رہنے کا امکان محکمہ موسمیات
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔