پورٹ سے متعلق منفی پروپیگنڈے ہوتے رہے ہیں: جنید انور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
جنید انور — تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وزیر میری ٹائم افیئرز جنید انور کا کہنا ہے کہ پورٹ سے متعلق ہمیشہ منفی پروپیگنڈے ہوتے رہے ہیں۔
وزیر میری ٹائم جنید انور نے کراچی پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ پورٹ صرف ٹرانسپورٹ کا کام نہیں کر رہی بلکہ ماحولیات میں بھی حصّہ ڈال رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کے پی ٹی فلاحی کاموں میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، سالانہ 35 ہزار مینگروو پورٹ لگا رہی ہے، کے پی ٹی نے جنگ کے دنوں میں اچھی پرفارمنس دی۔ اس کے علاوہ پلان بنا رہے ہیں جس میں تعلیم پر فوکس ہوگا، بچوں کی تعلیم مکمل کروائیں گے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ میری ٹائم شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی
جنیدانور کے مطابق اسپتال کےلیے بہت اچھا سولر سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا جو قابل تعریف ہے، یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی کے کم لاگت استعمال کی طرف اہم قدم ہے، سولر سسٹم سے سالانہ 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی بچت متوقع ہے، ماضی میں روزانہ 8 گھنٹے جنریٹر چلانا پڑتا تھا، جنریٹرز کے استعمال سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کا باعث ہے۔
وزیر میری ٹائم افیئرز کا کہنا ہے کہ بلیو اکانومی ایک حقیقت ہے، پاکستان میں بلیو اکانومی کا ملک کی اکانومی میں کنٹری بیوشن ہونا چاہیے وہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹینرز بڑی تعداد میں پڑے تھے کسٹم نے توجہ نہیں دی، چیئرمین ایف بی آر سے بات کی جس کے بعد معاملات مثبت سمت میں گئے، کسٹم کی ملکیت ساڑھے 4 ہزار کنٹینرز کی نشاندہی کی ہے جنہیں ہٹایا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 24 گھنٹے شکایتی سیل کام کر رہا ہے، شکایات کو 3 دن میں حل کرتے ہیں، ہم ہر ماہ اپنی پورٹس کاجائزہ لیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیر میری ٹائم کہنا ہے کہ
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔