فرار قیدی سرنڈر کردیں، نہیں تو دہشتگردی کے مقدمات کا سامنا ہوگا: مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
— اسکرین گریب
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر جیل سے فرار قیدیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرار قیدیوں سے کہتا ہوں کہ سرنڈر کردیں، نہیں تو دہشتگردی کے مقدمات کا سامنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزار قائد کے قریب خصوصی بچوں کے بحالی مرکز کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور مختلف سوالوں کے جوابات دیے۔
انہوں نے کہا کہ ملیر جیل میں پیش آنے والا واقعہ تشویشناک ہے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے باعث قیدیوں کو بیرکس سے نکالا گیا، سنگل اسٹوری عمارتوں کو اس شدت کے زلزلوں سے نقصان نہیں پہنچتا۔ ملیر جیل واقعے کی تحقیقات ہوگی، قیدیوں کو بیرکس سے نکال کر غلط فیصلہ کیا گیا، ذمہ داروں کو سزا ضرور ملے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ملیر جیل سے بڑے جرم میں ملوث کوئی قیدی فرار نہیں ہوا، میری اطلاعات کے مطابق فرار ہونے والے قیدی چھوٹے جرائم میں ملوث تھے۔ ملیر جیل سے فرار ہونے والے 80 سے 82 قیدیوں کو پکڑ لیا گیا ہے جبکہ قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے میں فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ 13 جون کو ہم بجٹ پیش کریں گے، بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے رقم مختص کی ہے۔
انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کےالیکٹرک کا ریگولیٹر نیپرا ہے، ہم نے وفاق سے کہا ہے کہ کےالیکٹرک کے بورڈ میں وفاق کے نمائندے موجود ہیں، کےالیکٹرک کے بورڈ میں سندھ حکومت کا بھی نمائندہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم حیسکو کو پرائیوٹائز نہیں کریں گے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائیں گے۔
ان کے مطابق لا اینڈ آرڈر کی ذمے داری حکومت کی ہیں، کے الیکٹرک کے خلاف جو احتجاج ہوا وہ شہریوں کا رد عمل ہے، احتجاج کریں لیکن دوسروں کو تکلیف نہ دیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ واپڈا کے فور منصوبہ 2026 کے بجائے 2025 میں مکمل کرلے، جو کام سندھ حکومت کے ذمے ہیں وہ ہم اپنے وقت پر مکمل کرلیں گے، ہم نے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے، وقت پر تمام چیزیں مکمل ہو جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قیدیوں کو ملیر جیل انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔