مریم نواز کا ایک سال میں’ایئر پنجاب‘ شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 26واں اجلاس منعقد ہوا جس میں 101 ایجنڈا پوائنٹس پر غور کیا گیا اور عوامی ریلیف کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں پنجاب کی پہلی نجی فضائی کمپنی ’ایئر پنجاب پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ایک سال کے اندر اسے شروع کرنے کا ہدف دیا۔
اجلاس میں کیے گئے چنیدہ اہم فیصلے درج ذیل ہیں:بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پاور ٹیرف کم کرنے کا اعلان
پنجاب رضاکارانہ طور پر بجلی کے نرخ کم کرنے والا پہلا صوبہ قرار
وزیراعلیٰ مریم نواز نے قائداعظم تھرمل اور پنجاب تھرمل کمپنیز کا ٹیرف کم کرنے کی منظوری دی
ٹیرف میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کا امکان
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پلسر گولڈ اور آئرن پروجیکٹ سے متعلق جامع بزنس پلان طلب کرلیا
سمبڑیال ضمنی الیکشن جیتنے پر کابینہ نے مبارکباد دی
پنجاب جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کیلئے 400 ملین کی گرانٹ منظور
گندم کے کاشتکاروں کے لیے سبسڈی ادائی مکمل، مزید 5 لاکھ کسانوں کو ادائی باقی
کسان کارڈ کے ذریعے 63 ارب فراہم، کھاد کی خریداری کے لیے 18 ارب خرچ
چیف منسٹر ویٹ پروگرام 2025 کی منظوری
ویپنگ سنٹرز بند کرنے اور ورکرز کے لیے حفاظتی کِٹس کی فراہمی کا حکم
9 ڈویژنز میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی اور چارجنگ اسٹیشنز کی ہدایت
آٹزم اسکول اینڈ ریسورس سینٹر ایکٹ 2025 کی منظوری
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کا رشتہ طے ہوگیا
نواز شریف میڈیکل سٹی کے لیے زمین کی منتقلی منظور، عالمی ادارے سے رابطہ
تمام اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے 40 ارب روپے مختص
راشن کارڈ، بلاسود الیکٹرک ٹیکسی، اور چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری
لیہ میں میڈیکل کالج کے قیام کی ہدایت
اٹک ڈسٹرکٹ کورٹس حملے کے متاثرین کے لیے اسپیشل گرانٹ منظور
ایکو ٹورازم، بس شیلٹر اپگریڈیشن اور برقی بس ڈپو کے منصوبے منظور
فلور ملز اور لائسنس ہولڈرز کے لیے 100 ارب روپے کی خصوصی فنانسنگ اسکیم منظور
کاشتکاروں کے لیے الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسیدی نظام کی منظوری
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر پنجاب مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر پنجاب مریم نواز پنجاب مریم نواز کی منظوری کے لیے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔