عمران خان کو بڑا عہدہ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف بن گئے۔
اڈیالہ جیل میں بانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہرنے کہاکہ بانی نے کہا ہے وہ آج سے پی ٹی آئی کے پیٹرن انچیف ہوں گے،پہلے کی طرح تمام فیصلے بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے،ان کاکہناتھا کہ مجھے چیئرمین شپ سے ہٹانے کی خبریں محض افواہ ہیں،بانی پی ٹی آئی پیٹرن انچیف اور میں چیئرمین رہوں گا۔
بیرسٹر گوہر کاکہناتھا کہ بانی نے کہا ہے احتجاجی تحریک کے سوا کوئی راستہ نہیں،اسلام آباد کے بجائے پورے ملک میں احتجاج ہوگا، بانی نے کہا ہے احتجاجی تحریک کو وہ خود لیڈ کریں گے،تحریک سے متعلق تمام ہدایات عمر ایوب کو دی جائیں گی،ان کاکہناتھا کہ احتجاج کا ٹائم فریم بانی پی ٹی آئی خود دیں گے،احتجاج کے حوالے سے مختلف افراد کو ذمہ داری دی جائے گی،احتجاج کی ذمہ داری اب صرف علی امین گنڈا پور پر نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ بانی نے پارٹی قیادت پر کوئی عدم اعتماد نہیں کیا، ہمیشہ کوشش رہی مسائل بات چیت سے حل ہوں،اب بھی بات چیت سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، بانی نے ہمیشہ لچک اور بات چیت کو ترجیح دی،ان کاکہناتھا کہ سمبڑیال الیکشن میں دھاندلی ہوئی،ہم نے مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دیا، مخصوص نشستوں پر عدالتیں فیصلہ نہیں کر رہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کسی سے کوئی بات نہیں ہورہی،اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا آپشن کھلا رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔