Daily Ausaf:
2025-07-23@09:12:43 GMT

تباہ کن سیلاب ، اموات کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT

نا ئیجیریا میں گزشتہ ہفتے آنے والے شدید سیلاب کے باعث اموات کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق نیگر اسٹیٹ کے انسانی ہمدردی کے کمشنر نے اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 200 افراد کے ہلاک ہونے کے علاوہ سیلاب میں بہہ جانے والے سیکڑوں افراد کی تلاش جاری ہے۔

موکوا ٹاؤن میں نے گزشتہ ہفتے اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا جس میں ایک ہی رات میں 250 سے زائد گھر سیلاب سے تباہ ہوگئے جبکہ متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

یہ اعلانات اس وقت سامنے آئے جب سرکاری اعداد و شمار میں 150 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی جبکہ کچھ خاندانوں نے درجن سے زائد قریبی رشتہ داروں کوبدترین سیلاب میں کھو دیا ہے۔

مقامی رہائشی احمد سلیمان نے نائیجیرین براڈ کاسٹ چینلز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نگر اسٹیٹ میں ہی 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن یہاں کوئی بھی اموات کے حوالے سے درست معلومات فراہم نہیں کر رہا، ہم سیلاب میں بہہ جانے والے مزید افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔’

ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی سیلاب میں بہہ جانے والے افراد کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے، موکوا ٹاون میں سیلاب میں بہہ جانے والے متعدد افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے، اس تباہ کن سیلاب کو 2024 میں آنے والے سیلاب سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے والے

پڑھیں:

دیامر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، نظامِ زندگی مفلوج

گلگت بلتستان کا ضلع دیامر شدید سیلاب کی لپیٹ میں آگیا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ چلاس کے علاقوں تھور، نیاٹ اور تھک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ تھور میں سیلاب کے باعث ایک مسجد شہید ہو گئی، رابطہ پل بہہ گیا اور پانی واپڈا کالونی میں داخل ہو چکا ہے۔

ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللّہ فراق کے مطابق تھک میں صورتحال مزید سنگین ہے جہاں سیلابی ریلوں نے کم و بیش 50 مکانات بہا دیے، متعدد علاقے جھل تھل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اسی علاقے میں ایک خاتون سمیت 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں ایک مقامی باشندہ شامل ہے جبکہ باقی 4 کا تعلق دیگر صوبوں سے بتایا گیا ہے۔ مزید 4 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 15 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ سیلابی ریلے میں تقریباً 15 گاڑیاں بھی بہہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، شاہراہ تھک بابوسر پر سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں، 3 سیاح جاں بحق، 15 سے زائد لاپتا

شاہراہ بابوسر پر ایک گرلز اسکول، 2 ہوٹل، ایک پن چکی، گندم ڈپو، پولیس چوکی اور ٹورسٹ پولیس شلٹر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ سیلاب سے شاہراہ سے متصل 50 سے زائد مکانات ملیا میٹ ہوچکے ہیں، 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثر ہے اور کم از کم 15 مقامات پر روڈ بلاک ہوچکی ہے۔ تھک بابوسر میں 4 اہم رابطہ پل بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

???? دنیور، گلگت بلتستان_

سیلاب نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے
دنیور میں سیلاب گھروں میں داخل ہو گیا!

گلگت شہر اور گردونواح میں سیلابی خطرہ
گلگت کے نواحی علاقوں دنیور اور ملحقہ دیہی گاؤں میں گزرنے والی ندیوں میں اچانک پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، اور کئی مقامات پر سیلاب کی… pic.twitter.com/Q1kVyrMm9i

— Gilgit Baltistan Tourism. (@GBTourism_) July 22, 2025

سیلاب سے نہ صرف رہائشی املاک متاثر ہوئی ہیں بلکہ ہزاروں فٹ عمارتی لکڑی بھی پانی میں بہہ گئی ہے، جبکہ 2 مساجد بھی شہید ہوچکی ہیں۔ تھک بابوسر میں مواصلاتی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے جس کے باعث کئی سیاحوں کا اپنے خاندانوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ لاپتا سیاحوں کی تلاش کا عمل جاری ہے، جبکہ اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کرکے چلاس پہنچایا گیا ہے، جہاں سے وہ اپنے اہلخانہ سے دوبارہ رابطے میں آچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دیامر: ’حقوق دو ڈیم بناؤ‘ تحریک کا آغاز، مظاہرین نے قرآن پاک پر حلف کیوں اٹھایا؟

متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت دیامر کی جانب سے میڈیکل کیمپ قائم کر دیا گیا ہے اور چلاس جلکھڈ روڈ کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ تتا پانی اور لال پڑی سمیت دیگر مقامات پر قراقرم ہائی وے کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جاسکے۔ تاہم بابوسر روڈ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام تر ٹریفک معطل کردی گئی ہے۔

#سیلاب
ترجمان حکومت #گلگت_بلتستان فیض اللہ فراق کے مطابق ضلع دیامر چلاس شہر کے گردو نواح میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور واپڈا کالونی زیر آب گئی ہے، جہاں کئی افراد موجود ہیں۔
ترجمان کے مطابق چھوٹی گاڑیوں کے لیے شاہراہِ قراقرم کھول دی گئی، تاہم بابوسر کا راستہ… pic.twitter.com/MGD5SZxw2z

— Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir) July 22, 2025

ڈپٹی کمشنر دیامر عطا الرحمٰان کاکڑ نے بتایا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جو 24 گھنٹے کام کرے گا، اور عوام کو کسی بھی ایمرجنسی میں فوری مدد کے لیے فراہم کردہ نمبرز پر رابطے کی ہدایت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news تھک بابو سر چلاس دیامر سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد‘ برساتی نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی تاحال لاپتہ، تلاش دوسرے دن بھی جاری
  • پانی کے ریلے میں بہہ جانے والے کرنل (ر) اسحاق، ان کی  25 سالہ بیٹی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری
  • اسلام آباد: برساتی نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی تاحال لاپتہ، تلاش دوسرے دن بھی جاری
  • پانی میں بہہ جانے والے کرنل اور بیٹی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن کیسے کیا جا رہا ہے؟
  • اسلام آباد کی نجی سوسائٹی کے برساتی نالے میں بہہ جانے والے باپ بیٹی کی تلاش جاری
  • دیامر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، نظامِ زندگی مفلوج
  • قلات: سیکیورٹی فورسز نے مزید 4 دہشتگرد ہلاک کردیے، کل تعداد 8 ہوگئی
  • بنگلہ دیش میں طیارہ حادثہ: اموات 27 تک پہنچ گئیں، ملک بھر میں یوم سوگ
  • مون سون بارشوں سے تباہی جاری، ہلاکتوں کی تعداد 221 تک جا پہنچی، 800 سے زائد مکانات مکمل تباہ
  • گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونیوالی بارش 12 قیمتی جانیں نگل گئی: این ڈی ایم اے