لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کی پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست سے اپنے خطاب میں کور کمانڈر لاہور نے حالیہ پاک، بھارت جنگ کے دیرپا اثرات اور پاکستان کو حاصل ہونے والے ثمرات پر بھی بات کی، ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے دنیا پر پاکستانی قوم اور افواج کی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کو عیاں کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی ہے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے پنجاب یونیورسٹی میں معرکہ حق کے تناظر میں طلبہ کی بنائی ہوئی خوبصورت پینٹنگز کا مشاہدہ کیا اور بھارت کیخلاف تاریخی فتح کو پوری قوم کے ایمان اتحاد اور نظم وضبط کا ثمر قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ نے اپنے خطاب میں حالیہ پاک، بھارت جنگ کے دیرپا اثرات اور پاکستان کو حاصل ہونے والے ثمرات پر بھی بات کی، ان کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے دنیا پر پاکستانی قوم اور افواج کی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کو عیاں کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے قدیم اور بڑی یونیورسٹی میں آنا باعث اعزاز ہے اور اساتذہ کرام قوم کے معمار ہیں، انہیں سلام پیش کرتا ہوں، حالیہ جنگ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید علوم کی اہمیت کھل کر سامنے آئی ہے، نوجوان ہی ملک کے روشن مستقبل کی دلیل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔