عیدالاضحیٰ کے پیش نظر کے پی حکومت کا سیاحوں کی سہولت کیلیے بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پرفضا سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے لیے کیمپنگ پاڈز بنائے گئے تھے، جسے سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیاح اب قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ اور محفوظ قیام کی سہولت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر مختلف سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق خیبر پختونخوا کے پرفضا سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے لیے کیمپنگ پاڈز بنائے گئے تھے، جسے سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیاح اب قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ اور محفوظ قیام کی سہولت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جن سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز بنائے گئے ہیں ان میں شاران وادی کاغان، ٹھنڈیانی ایبٹ آباد، بمبوریت کیلاش، یارخون لشٹ اپر چترال، سرلاسپور اپر چترال، گبین جبہ وادی سوات، سلاتن وادی سوات، ملکہ مہابن بونیر، شہید سر بونیر، الائی میدان بٹگرام، یخ تنگئی شانگلہ اور سمانہ اورکزئی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔