وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا دورہ قطر، میڈیسن اور ویکسین کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
DOHA:
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے قطر کے وزیرصحت کو پاکستان میں میڈیسن، ویکسین اور میڈیکل آلات کی پیدوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور پاکستانی سرجنز کی کیٹگری میں ترقی کی درخواست کی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قطر کے وزیر صحت منصور بن ابراہیم المحمود سے دوحہ میں ملاقات، پاکستانی وفد میں سرجن جنرل ڈاکٹر ارشد نسیم اور قطر میں پاکستانی سفارت کار محمد عامر شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مصطفیٰ کمال نے قطر میں پاکستانی سرجنز کو کیٹیگری 3 سے نکال کر کیٹیگری 1 میں ڈالنے کی درخواست کی اور قطری وزیر صحت نے مصطفیٰ کمال کو پاکستانی سرجنز کی جلد کیٹیگری 3 کیٹیگری 1 میں منتقلی کی یقین دہانی کرادی۔
ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اس منتقلی کے بعد پاکستانی سرجنز کو قطر میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے کوئی ٹیسٹ دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کیٹیگری 3 سے کیٹیگری 1 میں منتقلی سے قطر میں موجود پاکستانی ڈاکٹرز کا دیرینہ مسئلہ حل اور کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کے بعد بڑی تعداد میں پاکستانی سرجنز قطر میں خدمات انجام دے سکیں گے جس سے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قطر کو پاکستان میں میڈیسن، ویکسین اور میڈیکل آلات کی پیدوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال نے قطری ہم منصب کو وزیراعظم شہباز شریف کا خیر سگالی اور باہمی تعاون کا پیغام بھی پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی سرجنز ایم کیو ایم کمال نے قطر
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔