پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ بزدل دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، ملکی دفاع اورسالمیت کے لیے ہم ایک ہیں اور سیاسی اختلافاف کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا ثبوت دیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگانے سے گریز کرے، ان علاقوں کے عوام کی مالی صورتِ حال ٹیکس دینے کے قابل نہیں ، وفاقی حکومت ضم اضلاع کے بے گھر افراد کے فنڈز جلد جاری کرے۔ پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھاکہ بزدل دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، ملکی دفاع اورسالمیت کے لیے ہم ایک ہیں اور سیاسی اختلافاف کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کا ثبوت دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگانے سے گریز کرے، ان علاقوں کے عوام کی مالی صورتحال ٹیکس دینے کے قابل نہیں، ضم اضلاع دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح متاثر ہیں، ان علاقوں میں خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اورضم اضلاع کے لوگوں نے ملک کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کے ساتھ کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں، وفاقی حکومت ضم اضلاع کے بے گھر افراد کے فنڈز جلد جاری کرے، این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ صوبے کو منتقل کرنے کا فوری اعلان کیا جائے، کسی دوسرے صوبے کا حق نہیں مانگ رہے اپنا حق دیا جائے اور این ایف سی سے متعلق جو وعدہ کیا گیا ہے اسے فوری پورا کیا جائے۔ علی امین نے مطالبہ کیاکہ وفاقی حکومت اپنے ذمے خیبرپختونخوا کے تمام بقایاجات، پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات اور ٹوبیکو سیس میں کے پی کا پورا حصہ دیا جائے، یہ صوبے کے لوگوں کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں تنازعات کے پائیدار حل کے لیے جرگہ سسٹم بحال کیا جائے، افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں خیبر پختونخوا کو شامل کیا جائے کیونکہ خیبر پختونخوا کے بغیر مذاکرات ادھورے ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت علی امین ضم اضلاع کیا جائے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم