بھارت کے ساتھ اتنی بری ہوئی کہ وہ چاروں شانے چت ہوچکا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
لاہور:
تجزیہ کار فیصل حسین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ اتنی بری ہوئی ہے کہ وہ چاروں شانے چت ہو چکا ہے، تنہائی بھی ہے، رسوائی بھی ہے اور ایک اندھیرے میں کھڑا ہو گیا ہے بھارت، اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کرے، جو لوگ جنگ سے پہلے اس کے ساتھ تھے وہ بھی اس کے ساتھ نہیں ہیں، دنیا طاقت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، دنیا نے دیکھ لیا کہ طاقت پاکستان کے پاس ہے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت کے جو خواب چکنا چور ہوئے ہیں اس میں ایک خواب دنیا کی ایک سپر پاور بننے کا بھی تھا.
تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ یہاں پہ ایک دو چیزیں بہت امپورٹنٹ دیکھنے کی ہیں، میرے خیال میں جو پاکستان کیلیے بلیسنگ ان ڈسگائزثابت ہوئی وہ ایک تو یہ تھا جوکینیڈا میں انڈین گورنمنٹ کی طرف سے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی کی طرف سے وہاں پہ جو سکھ رہنما کی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کی گئی ، ٹارگٹ کیا گیا، یعنی اس کو دہشت گردی کی کارروائی کہہ دیں، اس کے بعد سے جس طرح ایک اور پلاٹ ان کوور ہوا امریکا میں اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ آسڑیلیا اور یوکے میں جو پلاٹ ان کوور ہوئے تو اس سے ایک ریئلائزیشن انٹرنیشنل کمیونٹی میں یہ آئی کہ انڈیا جو ہے وہ شاید اپنے قد سے بڑا بننے کی کوشش کر رہا ہے.
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ دیکھیں جو سچویشن بھارت کی گت بنائی ہے نہ پاکستان کی مسلح افواج نے اس وقت اور دنیا بھرجس طرح رسوا ہو رہا ہے کم سے کم لفظ یہ کہیں گے انڈیا کے بارے میں جو اپنے آپ کو امریکا سے بھی اوپر لے گیا تھا یعنی جن کی کھا رہا تھا ان پر بھی غرا رہا تھا اور سمجھ رہا تھا کہ ٹھیک ہے ہماری مرضی کسی کو بلائیں یا نہ بلائیں اور اوقات یہ نکلی، یہاں سے پاکستان سے بیٹھ کر ہم نے ان کی ہرچیز تہس نہس کی اور ہم نے خود چھوڑی، ہم نے جو کچھ کیا ان کی مت ماری، ان کو سمجھ نہیں آئی اور آج تک بھی نہیں آئی.
تجزیہ کار خالد قیوم نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو جنگ ہوگی وہ سفارتی محاذ پر ہوگی، اس میں بھارت کوشش کرے گا کہ پاکستان کیخلاف جارحانہ سفارتی سرگرمیاں کرے اور پاکستان کو دنیا میں بین الاقوامی سطح پرکس طرح نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، یہ اہداف اس کی طرف سے بنائے گئے ہیں اس میں خاص طور پرا ن کا ایک بڑا جو اس وقت ہدف ہے اگلا وہ پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرایا جائے جس میں ان کو پہلے بھی ناکامی ہوئی اور اب بھی ناکامی ہو گی.
سابق سفارتکار جمیل احمد خان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کیونکہ24 تاریخ کو جب پہلے دن نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جو پہلا اعلامیہ جاری ہوا، اس دن سے اور اس کے بعد سے بالکل ایک ٹرانپرنسی کے ساتھ ، حقائق کے ساتھ، سچ اور حق کے ساتھ اس نے تمام بیانات دینا شروع کیے جو کہ دنیا میں ریزونیٹ ہوئے اچھے طریقے سے، آپ نے دیکھا کہ دنیا میں جس جس طرح آگے معاملات بڑھتے گئے اور حتیٰ کہ جب دس تاریخ کو جنگ بندی ہوئی، اس وقت تک دنیا نے اگر اس کا موازنہ کیا جائے ان ایام کو ان دنوں سے جب پہلگام کا واقعہ ہوا تھا تو اس میں پھر بھی کچھ نہ کچھ آبزرویشن دنیا نے دی تھی.
انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ ہمیں پذیرائی بھی ملی اور جو ہمارے اتنے اچھے دوست نہیں ہیں ادھر سے نکتہ چینی بھی نہیں آئی، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یقیناً ایک مومینٹم ڈویلپ ہوا ہے، اس مومینٹم کو برقرار رکھنے کیلیے بلاول بھٹو جو پوری ٹیم کو لیڈ کر رہے ہیں ، اس میں کافی مضبوط لوگ ہیں، وہ اپنے نریٹیو کو صحیح بیان کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی تجزیہ کار نے کہا کہ بھارت کے کے ساتھ نہیں ا ساتھ ا
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔