ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کے کٹوتی بل کو مکروہ فعل قرار دے کر تہلکہ مچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
واشنگٹن:
معروف ارب پتی صنعتکار ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ٹیکس میں کٹوتی اور حکومتی اخراجات سے متعلق بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک مکروہ اور شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔
صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ مکمل حمایت کرنے والے مسک کا کہنا ہے کہ یہ بل وفاقی خسارے میں مزید اضافہ کرے گا اور قوم کے مستقبل پر منفی اثرات ڈالے گا۔
اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے کہا کہ معذرت کے ساتھ، لیکن اب مزید برداشت نہیں ہو رہا۔
یہ کانگریس کا ایک بڑا، فضول اور ناقابل قبول اخراجاتی بل ہے، جو ایک مکروہ عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اس بل کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ نے غلط کیا۔
مسک کے ان بیانات نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، بالخصوص ان ریپبلکن اراکین کے درمیان جو بجٹ خسارے پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کی ٹرمپ انتظامیہ سے اچانک کنارہ کشی، ’ ڈاج ‘ کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑ دیا
کئی قدامت پسند ریپبلکن سینیٹرز نے مسک کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے بل پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس سے اس قانون سازی کی منظوری میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ بل صدر ٹرمپ کی ٹیکس کٹوتیوں کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ دفاعی اخراجات اور بارڈر سیکیورٹی پر مزید فنڈز فراہم کرنے کی شقیں رکھتا ہے۔
غیرجانبدار کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق یہ قانون وفاقی قرض میں 3.
ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) پہلے ہی اس بل کو ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور کر چکا ہے۔ اب سینیٹ میں، جہاں ریپبلکن کی اکثریت ہے، One Big Beautiful Bill Act کے نام سے اس قانون کی منظوری اگلے ماہ متوقع ہے، تاہم اس میں ترامیم کی بھی توقع ہے۔
سینیٹ فنانس کمیٹی کے رکن سینیٹر اسٹیو ڈینز کے مطابق، بدھ کے روز کمیٹی کے ارکان وائٹ ہاؤس میں سابق صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تاکہ کاروباری ٹیکس چھوٹ کو مستقل کرنے پر بات چیت کی جا سکے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اس اقدام سے بل کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بزنس ٹائیکون ایلون مسک نے گزشتہ سال امریکی صدارتی انتخابات میں کھل کر کانگریس کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور پارٹی فنڈ میں لاکھوں ڈالر عطیہ بھی دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔