ڈالر مزید مہنگا، انٹربینک ریٹ 282 سے تجاوز کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
کراچی:
مالی سال کے اختتامی مہینوں میں اضافی درآمدی سرگرمیوں، وزیراعظم کی جانب سے اگلے سال کو معاشی نمو کا سال قرار دینے سے معیشت میں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے کے امکانات کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو ایک بار پھر روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ دوبارہ 282روپے سے تجاوز کر گئے۔
ملک میں مزید انفلوز کی توقعات، زرمبادلہ کے بڑھتے ہوئے سرکاری ذخائر سے سپلائی میں بہتری آنے کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے بیشتر دورانیے کے دوران ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 10پیسے کی کمی سے 281روپے 87پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
لیکن سپلائی میں بہتری آتے ہی مارکیٹ فورسز کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 14پیسے کے اضافے سے 282روپے 11پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں دوسرے دن بھی ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 284روپے 40پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔