مصنوعی ذہانت کے نام پر فراڈ، 700 بھارتی AI بن کر دنیا کو دھوکا دیتے رہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
لندن کی مشہور ٹیک کمپنی Builder.ai جو خود کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایپ بنانے والا پلیٹ فارم ظاہر کرتی تھی، آخر کار دیوالیہ ہو گئی۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے جو کام AI یعنی مصنوعی ذہانت سے منسوب کیا، وہ اصل میں بھارت میں بیٹھے 700 انجینئرز ہاتھ سے کرتے تھے۔ وہی انجینئرز گاہکوں کے آرڈر پر کوڈ لکھتے رہے اور کمپنی اسے AI کا کمال قرار دیتی رہی۔
Builder.
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کمپنی نے اپنے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ 2024 میں اس کی آمدنی 22 کروڑ ڈالر ہے، جبکہ حقیقت میں صرف 5 کروڑ ڈالر کمائے گئے۔ جب معاملہ کھلا تو مالیاتی ادارے Viola Credit نے کمپنی کے اکاؤنٹس سے 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر نکال لیے۔ کمپنی کے بانی سچن دیو دوگل کو ہٹا دیا گیا، اور نئے چیف ایگزیکٹو منپریت رتیا نے باقی جھوٹ بھی سامنے لا دیے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت محنت کشوں کی جان کے لیے بھی خطرہ، مگر کیسے؟
یہ دھوکا پہلی بار 2019 میں وال اسٹریٹ جرنل نے بے نقاب کیا تھا، جب پتا چلا کہ AI کا دعویٰ محض دکھاوا ہے اور زیادہ تر کام انسان کرتے ہیں۔ ایک سابق ملازم نے 5 ملین ڈالر کا مقدمہ بھی کیا تھا کہ کمپنی جھوٹ بول رہی ہے اور AI کی کوئی خاص ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں۔
اب امریکی حکام کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ اور گاہکوں کی تفصیل کی چھان بین کر رہے ہیں۔ کمپنی پر ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے لاکھوں ڈالر واجب الادا ہیں، جبکہ ایک ہزار ملازمین اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔
Builder.ai کی یہ ناکامی دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے ایک نئے خطرے کو ظاہر کرتی ہے، جسے ماہرین AI واشنگ کہتے ہیں یعنی روایتی ٹیکنالوجی کو مصنوعی ذہانت ظاہر کرکے دھوکا دینا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
700 انجینئرز AI Builder.ai Viola Credit مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔