Daily Sub News:
2026-07-24@09:04:15 GMT

تاریخ کے چوراہے  پر کھڑے  چین کی ترقی کی سمت

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

تاریخ کے چوراہے  پر کھڑے  چین کی ترقی کی سمت

تاریخ کے چوراہے  پر کھڑے  چین کی ترقی کی سمت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 June, 2025 سب نیوز

بیجنگ :تاریخ  اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں داخل ہوچکی ہے، دنیا ایک منظم تبدیلی سے گزر رہی ہے جو توقع سے کہیں زیادہ گہری ہے۔سنہ 2017 کے آخر میں شی جن پھنگ نے پہلی بار  یہ خیال ظاہر کیا کہ ہم دیکھ رہے ہیں دنیا میں بری تبدیلیاں رونما ہونے جا رہی ہیں، جو گذشتہ ایک صدی میں نظر نہیں آئیں  انہوں نے اس بڑِ ی تبدیلی کی وضاحت کے لیے   تین پہلووں سے  “بے مثال”  کے الفاظ کا استعمال کیا ۔ سب سے پہلا یہ کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے ممالک اور ترقی پذیر ممالک  کے احیاء کی  رفتار  بے مثال ہے  ۔

دوسرا یہ ہے کہ سائنسی اور تکنیکی انقلاب  سے پیدا ہونے والی صنعتی تبدیلی  اور مقابلے کی شدت  بے مثال ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ عالمی گورننس کے  نظام    اور   بین الاقوامی صورتحال میں ہونے والی تبدیلیوں  کے درمیان ناموافقت اور     غیر مساوی کی حالت بے مثال ہے ۔  اس وقت دنیا ایک چوراہے پر کھڑی ہے، اس تناظر میں شی جن پھنگ نے چین کو ایک ایسے راستے  پر لے  گئے  جو مغربی جدیدیت سے مختلف ہے، جس نے دنیا کے  مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک نیا نمونہ فراہم کیا ہے:

عالمی حکمرانی میں جیت جیت کی منطق کو ضم کرنا اور فائدہ مند  تعاون کے ساتھ  زیرو سم  کے کھیل کو ختم  کرنا۔150 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ “بیلٹ اینڈ روڈ”  کی مشترکہ تعمیر   پر دستخط سے لے کر “انسانیت کے  ہم نصیب معاشرے  “کے تصور کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی دستاویزات میں کئی بار  شامل کیا  گیا ہے۔ چین کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی دنیا کے لیے کھلے پن  سے لے کر ڈیپ سیک کے عالمی اوپن سورس تک؛

 شی جن پھنگ کے عالمی ترقی، سلامتی اور تہذیبی  انیشی ایٹوز  سے لے کر شنگھائی تعاون تنظیم، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، سلک روڈ فنڈ اور برکس ممالک کے نئے ترقیاتی بینک جیسے بین الاقوامی اداروں کی ترقی تک، چین نے بین الاقوامی سلامتی، معیشت اور تجارت، علاقائی تعاون اور عالمی امور کے شعبوں میں   زیادہ سے زیادہ اہم کردار ادا  کیاہے ۔ چین کی  پیش کردہ تجویز “تہذیبوں کے تصادم” کے نظریے سے آگے بڑھنے کا امکان پیش کرتی ہے۔

علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی)، جسے چین فعال طور پر فروغ دے رہا ہے، نے دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی علاقہ تعمیر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق 2023 سے 2029 تک آر سی ای پی عالمی اقتصادی ترقی میں 40 فیصد سے زیادہ کا حصہ ڈالے گا۔تاریخ کے چوراہے پر کھڑا چین ایک نئی قسم کے بین الاقوامی تعلقات کا معمار بن چکا ہے۔ چین کی طاقت نے دنیا میں تنازعات اور جنگ نہیں لائی ہے بلکہ تہذیب کی ایک نئی شکل متعارف کرائی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور امریکہ کا اختلافات کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق ٹریڈنگ آرٹسٹ”،جو کہے کچھ اور کرے کچھ ،وہ زمانے میں اپنی پوزیشن کھو دے گا پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے کھلتے ہی نئی تاریخ رقم کردی رواں مالی سال تنخواہ دار طبقے کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کا انکشاف وفاقی بجٹ 2025-26کی تیاریاں مکمل، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس طلب تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریلیف میں اہم پیشرفت، آئی ایم ایف شرح کم کرنے پر آمادہ پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد کیے جانے کا امکان، مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین کی

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ