ٹک ٹاکر و ماڈل اریکا حق نے کہا ہے کہ متعدد لڑکیاں اپنی نامناسب ویڈیوز خود ہی لیک کرکے شہرت اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم بعض لڑکیوں کے ساتھ ٖغلط بھی ہوتا ہے۔

اریکا حق نے حال ہی میں ’نکتا‘ کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے چند سال قبل اس وقت سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانا شروع کیے تھے جب وہ میٹرک پاس کر چکی تھیں اور گیارہویں جماعت میں داخلہ لینے سے رہ گئیں۔

ان کے مطابق بعد ازاں انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، ابتدائی طور پر ’میوزک الی‘ نامی ایپ پر ویڈیوز بناتی تھیں، بعد ازاں وہی ایپ ٹک ٹاک بن گئی۔

اریکا حق کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانے کی وجہ سے نہ صرف انہیں آن لائن بلکہ سامنے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا، جس وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار بھی ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں عاصم اظہر کے ساتھ گانے میں ماڈلنگ کرنے کے بعد سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب کہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد آتے جاتے بھی ان پر تنقید کی جاتی رہی۔

ٹک ٹاکر کے مطابق تنقید کرنے والوں کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اسٹار اور ماڈل عوامی ملکیت ہوتے ہیں، ان پر وہ تنقید کر سکتے ہیں، اس لیے ان کے لیے بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا جاتا رہا۔

انہوں نے بتایا کہ لوگوں کے منفی تبصروں کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار بھی ہوئیں، گھر والوں سمیت دوستوں اور خصوصی طور پر اداکارہ صبا قمر کی مدد سے وہ ڈپریشن سے باہر نکلیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صبا قمر نے عاصم اظہر سے ان کا فون نمبر لے کر انہیں کال کی اور انہیں ڈپریشن سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔

پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب اریکا حق نے انکشاف کیا کہ آج کل بہت ساری ٹک ٹاکر لڑکیاں اپنی نامناسب ویڈیوز خود ہی لیک کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل تک لڑکے اور لڑکیاں جوڑی کے طور پر ویڈیوز بناتے دکھائی دیے، جس وجہ سے انہیں شہرت بھی ملی لیکن وہ سلسلہ ختم ہوا تو لڑکیاں سوشل میڈیا پر مشہور نہ رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر مزید مشہور نہ رہنے کی وجہ سے لڑکیوں نے اپنی ویڈیوز خود ہی لیک کرنا شروع کیں تاکہ وہ دوبارہ سے بحث کا موضوع بنیں، انہیں شہرت ملے۔

اریکا حق کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کو لیک کرنے کی حکمت عملی کام بھی کرتی ہے اور لڑکیوں کو شہرت بھی ملتی ہے۔

اسی دوران انہوں نے کہا کہ پہلے وہ سوچتی تھیں کہ لڑکیوں کے ساتھ غلط ہوتا ہے لیکن اب وہ جان چکی ہیں کہ لڑکیاں خود ہی غلط ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ اپنی ویڈیوز خود لیک کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کم ہے، زیادہ تر لڑکیوں کے ساتھ غلط ہوتا ہے۔

اریکا حق کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کسی لڑکے کے ساتھ ویڈیوز نہیں بنائیں، اس لیے انہیں میڈیا میں موضوع بحث رہنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

اگرچہ انہوں نے بتایا کہ لڑکیاں اپنی ویڈیوز خود لیک کرتی ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹک ٹاکر مناہل ملک، سجل ملک، سامعہ حجاب، ارمشا رحمٰن اور علیزہ سحر کی مبینہ فحش ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ اپنی ویڈیوز خود کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پر ویڈیوز اریکا حق ٹک ٹاکر کے ساتھ لیک کر خود ہی

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل