حکومت کا کوئی فورم ہونا چاہیے جو برطرف ملازمین کے کیسز کا فیصلہ کرے: جسٹس محمد علی مظہر
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
سپریم کورٹ کراچی کی رجسٹری میں قومی ایئرلائن کے ملازم کی برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کا کوئی فورم ہونا چاہیے جو برطرف ملازمین کے کیسز کا فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ کراچی کی رجسٹری میں قومی ایئرلائن کے ملازم کی برطرفی کے خلاف درخواست پر جسٹس محمد علی مظہر نے سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قومی ایئرلائن انتظامیہ نے ملازم ندیم لودھی کو 2015ء میں برطرف کیا تھا، سندھ ہائی کورٹ نے برطرفی کے خلاف درخواست مسترد کی تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سرکاری اور نجی اداروں سے ملازمین کی برطرفیوں کا فورم نہ ہونے ہر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی آئی اے سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہتے ہیں اس طرح کے کیسز میں آپ معاونت کریں، ہم سارے کیسز کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی لکھ چکا ہوں کہ اس معاملے کو دیکھیں، ، سرکاری سمیت دیگر اداروں میں ملازمین کو نکال دیا جاتا ہے، ملازمین سول سوٹ دائر کرتے ہیں جو 20، 20 سال تک چلتے ہیں۔
جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ کیسز کی پیروی کرتے ہوئے ملازمین مرجاتے ہیں، جن اداروں میں سروس کے قواعد نہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ کہا کہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔