فوتگی کوٹے پر بھرتی کا معاملہ، سندھ حکومت کی توہین عدالت کی درخواست کیخلاف دائر اپیل خارج
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے محکمہ پولیس میں فوتگی کوٹے پر بطور مالی بھرتی نہ کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت کی توہین عدالت کی درخواست کے خلاف دائر کی گئی اپیل غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی۔
عدالت میں سندھ حکومت کی توہین عدالت کی درخواست کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔ عدالت میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے فوتگی کوٹے سے متعلق فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کو نوٹس جاری کر کے سوموٹو طرز پر کیس چلایا گیا؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ فیصلے کے بعد فوتگی کوٹہ سے متعلق بہت سے کیسز آ چکے ہیں اور مزید بھی آئیں گے۔
درخواست گزار محمد علی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے مجھے تقرر نامہ جاری ہوچکا تھا، آر آر ایف میں گریڈ ایک مالی کی پوسٹ پر تقرری لیٹر جاری ہوا تھا۔
درخواست گزار محمد علی نے یہ بھی بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ بھی درخواست نمٹا چکی تھی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سو موٹو طرز پر کیس چلا کر پورے پاکستان کو لپیٹ لیا گیا ہے، سنگین نوعیت کے معاملے کو آئینی بینچ بھیجا جاتا یا لارجر بینچ بنتا۔
سندھ میں مرحوم ملازمین کی اولاد کے لیے ملازمت کا کوٹہ ختم کر دیا گیا۔
اُنہوں نے کہا کہ فیصلے سے پہلے تقرر نامے کے باوجود جوائننگ نہ ہونے والوں کو بھی دیکھنا ہوگا، عدالتی فیصلے سے دیگر کیسز پر بھی اثر پڑے گا، سپریم کورٹ کے جس بینچ نے فیصلہ دیا تھا میں اس میں شامل نہیں تھا۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے زیادہ بہتر عدالت کی معاونت تو ایک مالی کر رہا ہے، آپ نے عدالت سے حقائق چھپائے، یہ اچھی بات نہیں، آفر لیٹر کے اجراء اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود بھی اپیل لے کر آ گئے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں فوتگی کوٹہ ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ عدالت کی کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔