نیویارک:

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کا راستہ جنگ سے نہیں، بلکہ مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے اراکین اور تھنک ٹینک نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران کیا، بلاول بھٹو زرداری ان دنوں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر ہیں۔

اس دوران انہوں نے امریکی کانگریس میں پاکستانی کاکس کے نمائندہ اراکین سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، دہشتگردی کے خاتمے، اور پاک بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: اگر آئی ایس آئی اور "را" ملکر کام کریں تو دہشتگردی میں کمی آئے گی، بلاول بھٹو

انہوں نے پاک بھارت مشترکہ انسداد دہشتگردی فورم کے قیام کی تجویز بھی دی، تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر طور پر تدارک کیا جا سکے۔

یہ اہم ملاقات امریکی کانگریس کی کینن ہاؤس بلڈنگ میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی نیویارک سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ٹام سوازی نے کی۔ اس موقع پر ریپبلکن رکن جیک برگمین اور ڈیموکریٹ کانگریس پرسن الہان عمر سمیت متعدد امریکی قانون ساز موجود تھے۔

ایونٹ میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے نمایاں افراد، خصوصاً ڈیموکریٹ رہنما اعجاز علوی نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرانے کیلیے متحرک کردار ادا کرے، بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری نے واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) میں بھی شرکت کی، جہاں ایک پینل مباحثے کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے سفارتکاری کو واحد مؤثر حل سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے عالمی برادری کو سنجیدہ سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی۔

پیپلزپارٹی چیئرمین نے امریکنز فار ٹیکس ریفارم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجارت کے دروازے کھولنے سے نہ صرف خطے میں تنازعات میں کمی آئے گی بلکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر بھی بچائے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کی زیرقیادت وفد کی اقوام متحدہ میں امریکی مندوب سے ملاقات؛ بھارتی جارحیت کی مذمت

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت جنگ بندی میں سہولت کاری پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے دورے کے دوران متعدد امریکی ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دیے، جن میں انہوں نے افغانستان کی صورتحال، پاک بھارت تعلقات، اور جنوبی ایشیاء میں امن کی کوششوں پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی سفارتی کوششوں نے ثابت کیا ہے کہ جو کام بندوق سے ممکن نہیں، وہ بات چیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پاک بھارت انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل