جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتا ہے، پارٹی کو بہتر پوزیشن پر لانے کی کوشش کرینگے: زرداری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
لاہور+اسلام آباد ( نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) صدر پاکستان آصف زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سینٹرل پنجاب میں بہتر پوزیشن پر لانے کی کوشش کریں گے، جنوبی پنجاب تنظیم کی کارکردگی قابل اطمینان ہے۔ وہ گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر مرحوم شیخ رفیق احمد کی صاحبزادی ڈاکٹر حمیرہ راشد، ڈاکٹر راشد ضیا، ڈاکٹر مکرمہ راشد اور فرخ مرغوب صدیقی پر مشتمل وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور عبدالقادر شاہین بھی موجود تھے۔ صدر زرداری نے دوران کہا کہ پنجاب میں شیخ رفیق احمد کے دور صدارت میں رحیم یار خان سے اٹک تک پوری تنظیم سرگرم ہوتی تھی۔ وفد نے صدر سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کی تنظیم ایک کر دی جائے جس پر صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتا ہے اس لیے اب ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے شیخ رفیق احمد کی پارٹی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر فاروق لغاری کی جگہ ہم شیخ رفیق کو صدر بناتے تو پیپلز پارٹی کبھی مشکلات کا شکار نہ ہوتی اور پارٹی میں کوئی غداری کرنے کی جرأت نہ کرتا۔صدر نے جنوبی کوریا کے نومنتخب صدر لی جامیونگ کو مبارکباد پیش کی‘ صدر مملکت نے علاقائی و عالمی امن کے فروغ کے لئے جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں وفد نے صدرِ کو جنوبی پنجاب کے مختلف حلقوں میں عوامی مسائل، مقامی ترقیاتی ترجیحات اور تنظیمی ڈھانچے کو مؤثر بنانے سے متعلق بریفنگ دی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کے ایجنڈے، انتخابی تیاریوں، کارکنان کے ساتھ زمینی روابط اور پارٹی کے نظریاتی بیانیے کو مزید مضبوط بنانے پر مشاورت کی گئی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی مقصد ملک کے محروم، محنت کش اور نظر انداز شدہ طبقات کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب نہ صرف جمہوری حوالے سے اہم خطہ ہے بلکہ یہاں کے عوام کی محبت اور قربانیاں پارٹی کا سرمایہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس خطے کو اپنی سیاسی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ صدر زرداری نے اعلان کیا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے بعد جنوبی پنجاب کا دورہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027