لاہور+اسلام آباد ( نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) صدر پاکستان آصف  زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سینٹرل پنجاب میں بہتر پوزیشن پر لانے کی کوشش کریں گے، جنوبی پنجاب  تنظیم کی کارکردگی قابل اطمینان ہے۔ وہ گورنر ہاؤس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر مرحوم شیخ رفیق احمد کی صاحبزادی  ڈاکٹر حمیرہ راشد، ڈاکٹر راشد ضیا، ڈاکٹر مکرمہ راشد اور فرخ مرغوب صدیقی پر مشتمل وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور عبدالقادر شاہین بھی موجود تھے۔ صدر زرداری نے دوران کہا کہ پنجاب میں شیخ رفیق احمد  کے دور صدارت میں رحیم یار خان سے اٹک تک  پوری تنظیم سرگرم ہوتی تھی۔ وفد نے صدر سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کی تنظیم ایک کر دی جائے جس پر صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتا ہے اس لیے اب ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے شیخ رفیق احمد کی پارٹی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر فاروق لغاری کی جگہ ہم شیخ رفیق کو صدر بناتے تو پیپلز پارٹی کبھی مشکلات کا شکار نہ  ہوتی اور پارٹی میں کوئی غداری کرنے کی جرأت  نہ کرتا۔صدر نے جنوبی کوریا کے نومنتخب صدر لی جامیونگ کو مبارکباد پیش کی‘ صدر مملکت نے علاقائی و عالمی امن کے فروغ کے لئے جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں وفد نے صدرِ کو جنوبی پنجاب کے مختلف حلقوں میں عوامی مسائل، مقامی ترقیاتی ترجیحات اور تنظیمی ڈھانچے کو مؤثر بنانے سے متعلق بریفنگ دی۔ ملاقات میں پیپلز پارٹی کے ایجنڈے، انتخابی تیاریوں، کارکنان کے ساتھ زمینی روابط اور پارٹی کے نظریاتی بیانیے کو مزید مضبوط بنانے پر مشاورت کی گئی۔ صدر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی مقصد ملک کے محروم، محنت کش اور نظر انداز شدہ طبقات کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب نہ صرف جمہوری حوالے سے اہم خطہ ہے بلکہ یہاں کے عوام کی محبت اور قربانیاں پارٹی کا سرمایہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس خطے کو اپنی سیاسی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ صدر زرداری نے اعلان کیا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے بعد جنوبی پنجاب کا دورہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم