آئی ایم ایف کی سونے اورکیش پر ٹیکس لگانے کی حکومتی تجاویز مسترد
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
حکومت سونا، نقدی اور دیگر اثاثوں پر سی وی ٹی عائد کرنے کی خواہش مند تھی تاہم یہ کوشش ناکام ہو گئی
ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی اجازت، سودی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے پر غور، ذرائع
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کی جانب سے منقولہ اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) لگانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ حکومت سونا، نقدی اور دیگر اثاثوں پر سی وی ٹی عائد کرنے کی خواہش مند تھی تاہم یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک دن کے چوزوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی مسترد کر دی ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس سے حکومت کو 10 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں میوچل فنڈز کی ڈیویڈنڈ آمدن پر ٹیکس کو 20 فیصد تک بڑھانے، سودی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے، وینچر کیپیٹل کمپنیوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور سنیما انڈسٹری کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 35 فیصد انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی کوئی تجویز شامل نہیں کی گئی، جبکہ 5 لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر 10 فیصد سرچارج برقرار رکھا جائے گا۔ آئی ایم ایف نے چار درمیانی ٹیکس سلیبز میں ٹیکس شرح کم کرنے کی حمایت کی ہے، اور 5 لاکھ روپے سے کم آمدن والوں کو معمولی ریلیف دینے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو 12 لاکھ تک بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم انکم ٹیکس کی ابتدائی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو بجٹ کی ابتدائی بریفنگ دے دی گئی ہے، جبکہ وفاقی بجٹ کا اعلان 10 جون کو قومی اسمبلی میں کیا جائے گا۔ اقتصادی سروے 9 جون کو عید کے تیسرے دن جاری کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف انکم ٹیکس کرنے کی پر ٹیکس ٹیکس کی
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔