ڈی آئی خان میں اغوا کی سنگین واردات، 11 میں سے 6 ملازمین بازیاب، سرچ آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دوماندہ پل کے قریب اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب نامعلوم مسلح افراد نے ایک نجی کمپنی کے 11 ملازمین کو اغوا کر لیا۔ یہ ملازمین 3 گاڑیوں میں اسلام آباد سے کوئٹہ جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:تربت: اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی اغوا، سرچ آپریشن جاری
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے 6 مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، جبکہ دیگر 5 کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے۔
واقعہ اس خطے میں پیش آیا جو ماضی میں بھی شدت پسند گروپوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، خاص طور پر قبائلی علاقوں سے متصل سرحدی پٹی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے کی جغرافیائی ساخت، دشوار گزار پہاڑی سلسلہ اور قبائلی روابط اغوا جیسے واقعات کی پیچیدگی کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری احتیاط اور حکمتِ عملی کے ساتھ کارروائی کر رہے ہیں۔
گھوٹکی میں بھی بڑی کامیابی، 25 روز بعد مغوی بھائی بازیابدوسری جانب سندھ کے ضلع گھوٹکی کے حساس علاقے رونتی میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر ٹارگیٹڈ آپریشن کرتے ہوئے 2 مغوی بھائیوں کو بازیاب کرا لیا۔
پولیس کے مطابق ان دونوں افراد کو تقریباً 25 روز قبل صوبہ سندھ اور پنجاب کی سرحد کے قریب واقع ایک مچھلی فارم سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو عہدوں سے کیوں ہٹایا گیا؟
رونتی، گھوٹکی اور اس کے نواحی علاقے حالیہ برسوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کی پناہ گاہ سمجھے جاتے رہے ہیں، جہاں ریاستی عمل داری کو چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مغویوں کی بازیابی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مربوط ردعمل کا نتیجہ ہے اور اغوا کاروں کے خلاف مزید کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد ڈیرہ اسماعیل خان ضلع گھوٹکی کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ڈیرہ اسماعیل خان ضلع گھوٹکی کوئٹہ
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے