نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جون ۔2025 )امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور محصور علاقے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اپیل پر مبنی قرارداد کو ویٹو کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکہ نے اپنے اقدام کو اس دلیل کے ساتھ درست قرار دیا کہ یہ متن اس تنازع کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے.

(جاری ہے)

عرب نشریاتی ادارے کے مطابق فرانس اور برطانیہ کے سفیروں نے ووٹنگ کے نتائج پر افسوس کا اظہار کیا جب کہ چینی سفیر فو کونگ نے براہ راست امریکہ کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے سیاسی مفادات سے دست بردار ہو کر منصفانہ اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنے کی دعوت دی. الجزائر کے سفیر عمار بن جامع نے کہا کہ خاموشی نہ مردوں کا دفاع کرتی ہے، نہ مرتے ہوﺅں کا ہاتھ تھامتی ہے اور نہ ہی ظلم کے نتائج کا سامنا کرتی ہے پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکی ویٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی کھلی اجازت اور سلامتی کونسل کے ضمیر پر ایک اخلاقی داغ قرار دیا.

سلووینیا کے سفیر سموئیل زبوگار نے کہا کہ جب انسانیت کو غزہ میں براہ راست آزمائش کا سامنا ہے، تو یہ قرارداد ہمارے مشترکہ احساسِ ذمہ داری سے جنم لے چکی ہے یہ ذمہ داری ہم غزہ کے عام شہریوں اسیر اسرائیلیوں اور تاریخ کے سامنے ادا کرتے ہیں. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاﺅس میں بطور صدر واپسی کے بعد یہ پہلا ویٹو ہے جو واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں استعمال کیا ہے ووٹنگ سے قبل امریکی مندوب ڈورتھی شیا نے کہا کہ یہ قرارداد ایسی جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی جو زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہو اور حماس کی حوصلہ افزائی کرتی ہو نیزیہ قرارداد اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک جھوٹی مساوات قائم کرتی ہے.

انہوںنے کہا کہ یہ متن نہ صرف اس وجہ سے ناقابل قبول ہے کہ اس میں کیا درج ہے بلکہ اس وجہ سے بھی کہ اس میں کیا شامل نہیں کیا گیا انہوں نے اسرائیل کے اپنے ”دفاع کے حق“ پر زور دیا سلامتی کونسل جس میں پندرہ رکن ممالک شامل ہیں کی جانب سے غزہ کی جنگ پر پہلا ووٹ تھا جو نومبر کے بعد ہوا اس سے قبل سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے ایسی ہی ایک قرارداد کو روکا تھا جو جنگ بندی کا مطالبہ کرتی تھی اور یہ جنگ تقریباً 20 ماہ سے جاری ہے.

سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ کے بارے میں آخری قرارداد جون 2024 میں منظور ہوئی تھی جس میں ایک امریکی منصوبے کی حمایت کی گئی تھی جو مرحلہ وار جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر مشتمل تھی تاہم جنگ بندی جنوری 2025 تک موثر نہ ہو سکی حالیہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان نے پیش کیا جس کے حق میں 14 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں صرف امریکہ نے ووٹ دیا.

قرارداد میں فوری غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ساتھ ہی غزہ میں تباہ کن انسانی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ، فوری اور غیر مشروط رسائی پر زور دیا گیا تاکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر فریقین کی جانب سے امداد محفوظ اور موثر طریقے سے پہنچائی جا سکے. اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہاکہ آپ سلامتی کونسل میں غصہ دیکھ رہے ہیں اور پھر بھی بے بسی کو قبول کرتے ہیں؟ آپ کو حرکت میں آنا ہو گا انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر کے اس خطاب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے غزہ میں نسل کشی کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سلامتی کونسل اقوام متحدہ یہ قرارداد کی جانب سے نے کہا کہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی