امریکی حکومت فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک ہے، جہاد اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں جہاد اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ وہی حکومت ہے جو عربوں کے ذخائر کو بلا تفریق لوٹتی ہے، مجرم صیہونی رژیم کو ہتھیار و گولہ و بارود فراہم کرتی ہے اور اپنے جرائم کو جاری رکھنے کیلئے سیاسی پردہ ڈالتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" نے ایک جاری بیان میں اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ جارحیت کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا۔ واشنگٹن کا یہ امر اس بات کی غمازی ہے کہ امریکی حکومت، نتین یاہو کے جنگی جرائم کی مکمل طور پر ذمے دار ہے۔ نیز وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں بھی شریک ہے۔ جہاد اسلامی نے کہا کہ ٹرامپ انتظامیہ کے اقدامات اور موقف، سابقہ امریکی حکومتوں سے ذرہ برابر مختلف نہیں۔ یہ مسئلہ ان حکومتوں کی توجہ میں لانا چاہیے جو امریکی انتظامیہ پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ وہی حکومت ہے جو عربوں کے ذخائر کو بلا تفریق لوٹتی ہے، مجرم صیہونی رژیم کو ہتھیار و گولہ و بارود فراہم کرتی ہے اور اپنے جرائم کو جاری رکھنے کے لیے سیاسی پردہ ڈالتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بدھ کی دوپہر، سلامتی کونسل اپنے اجلاس میں غزہ کی پٹی میں بلا مشروط فوری و مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی قرارداد کے مسودے کو منظور کرنے میں ناکام رہی۔ اس قرارداد کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے ووٹ دیا تاہم اس کونسل کے مستقل رکن امریکہ نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کی مخالفت کی اور اسے ویٹو کر دیا۔ جس وجہ سے قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ کے علاوہ کسی بھی ملک نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا۔ واضح رہے کہ جنوری 2025ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے یہ پہلا ویٹو ہے۔ قرارداد پر ووٹنگ کے عمل سے قبل اقوام متحدہ میں نائب امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے اپنی تقریر میں بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حقائق کی بنیاد پر مجوزہ قرارداد، غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جہاد اسلامی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔