کراچی سمیت سندھ بھر میں انٹر سال اول کی داخلہ پالیسی جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
کراچی: محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ نے کراچی سمیت پورے صوبے کے 375 سرکاری کالجوں کے لیے انٹر سال اول کے داخلوں کا اعلان کردیا یے۔
محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے پالیسی سے متعلق نوٹی فکیشن بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کالجز میں داخلے نویں جماعت / او لیول پارٹ ون کے نتائج کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔
کراچی کے 154کالجوں میں تقریبا 1 لاکھ سے زائد طلبہ کو داخلے دیے جائیں گے اور نئے ضابطے کے تحت اب صرف اے ون اور اے گریڈ کے حامل طلبہ شہر کے کسی بھی کالج میں داخلے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
پالیسی کے مطابق "بی ، سی ، ڈی اور ای" گریڈ لینے والے طلبہ صرف اپنے رہائشی زون میں واقع کالجوں میں داخلے کے اہل ہونگے جسے کالج زون پالیسی کا نام دیا گیا ہے۔
یہ داخلے " سندھ الیکٹرونک سینٹرلائزڈ کالج ایڈمیشن پروگرام(ایس ای سی سی اے پی ) 2025-26" کے تحت دیے جائیں گے۔
طلبا seccap.
ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ ڈاکٹر نوید رب کے مطابق سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول کی کلاسز 5 اگست جبکہ سال دوئم کی کلاسز یکم اگست سے شروع ہوجائیں گی داخلہ پراسس کے لیے آئی ٹی سسٹم سندھ سیکریٹریٹ سے ڈائریکٹوریٹ آف کالجز منتقل کردیا گیا یے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔