(سندھ بلڈنگ) گلشن اقبال میں غیرقانونی تعمیرات کوانسپکٹر عابد کی سرپرستی
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
13 D پلاٹ نمبر A93اور A121 کی رہائشی اراضی پر کمرشل تعمیرات کی چھوٹ دے دی
پورشن یونٹ اور دکانوں کی تعمیر کی چھوٹ ،گیس، بجلی، پانی ،اور پارکنگ کے مسائل میں اضافہ ہوگیا
ملوث افسران کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، ترقی سے نوازے جانے کا سلسلہ شروع
سندھ بلڈنگ کھوڑو سسٹم گلشن اقبال میںرہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کی چھوٹ بلڈنگ انسپکٹر عابد شاہ نے خطیر رقوم بٹورنے کے بعد 13 D پلاٹ نمبر A93 اور A121 پر کمرشل تعمیرات کی سرپرستی شروع کر دی جرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کی کوشش ناکام ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں رائج کھوڑو سسٹم میں گلشن اقبال اسکیم 24 کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے خطیر رقوم بٹورنے کے بعد رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹ اور دکانوں کی تعمیر کی چھوٹ دی جا رہی ہیجسکے باعث گیس بجلی پانی سیوریج اور پارکنگ جیسے بنیادی مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے شہر بھر میں جاری غیر قانونی تعمیرات سے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی بلکہ بدعنوان افسران کو ترقی سے نوازا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ افسران احتساب کے خوف سے لاپروا ہو کر ذاتی مفادات حاصل کرکے ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچانے میں مگن ہیں ضلع شرقی کے علاقے گلشن اقبال کے بلاک 13D میں رہائشی پلاٹ A121 کمرشل پورشن یونٹ کی تیسری منزل تعمیر کی جارہی ہے جبکہ 13D1 کے رہائشی پلاٹ نمبر A93 پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیرات بلڈنگ انسپکٹر عابد شاہ کی سرپرستی میں جاری ہیں جاری خلاف ضابطہ تعمیرات پر ڈی جی اسحاق کھوڑو سے موقف لینے کے لئے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پر کمرشل تعمیرات رہائشی پلاٹ گلشن اقبال پورشن یونٹ کی چھوٹ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔