حج 2025: سعودی شعبہ صحت اب تک کتنے عازمین کو طبی سہولیات فراہم کرچکا ہے؟ اعداد و شمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
حج 1446 ہجری کے سیزن میں 8 ذو الحجہ تک سعودی عرب کا شعبہ صحت اب تک حجاج کرام کو 1 لاکھ 2 ہزار سے زائد طبی سہولیات فراہم کر چکا ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ مملکت حجاج کی سہولت اور آرام کے لیے اعلیٰ معیار کی مؤثر طبی خدمات فراہم کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ خدمات ویژن 2030 کے تحت جاری ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور حاجی تجربہ پروگرام کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حجاج کرام کو آسانی اور اطمینان کے ساتھ مناسکِ حج ادا کرنے میں مدد دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عازمین حج کی خدمت: مسجد نمرہ کو ہزاروں مربع میٹر قالین سے سجا دیا گیا
وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 55,275 حجاج نے صحت مراکز سے رجوع کیا، جبکہ 27,231 کیسز ایمرجنسی وارڈز میں سنبھالے گئے۔ اسی طرح 1,412 مریضوں کا علاج او پی ڈی (بیرونی مریض کلینکس) میں کیا گیا۔
ان میں سے 4,970 کیسز کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا، جن میں 2,262 افراد کو انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس دوران 16 اوپن ہارٹ سرجریز اور 204 کارڈیک کیتھیٹرائزیشنز (دل کے ذریعے باریک نالی ڈال کر علاج) بھی کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس کی جانب سے حجاج کرام کا خیر مقدم اور تحائف کی تقسیم
وزارت نے گرمی کے باعث لاحق تناؤ (heat stress) کے 71 کیسز کو بھی کامیابی سے کنٹرول کیا۔
صحت کا شعبہ حج سیزن کے دوران مسلسل بھرپور محنت سے خدمات سرانجام دے رہا ہے تاکہ حجاج کرام کی صحت و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے، اور انہیں ہر ممکن اعلیٰ طبی سہولیات بروقت اور مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن ہارٹ سرجریز حج 2025 شعبہ صحت کارڈیک کیتھیٹرائزیشنز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن ہارٹ سرجریز
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔