سٹی42: پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ایک بار پھر زلزلہ آیا ہے، زلزلے نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور لوگ گھروں سے نکل کر کھلے مقامات پر آ گئے۔
زلزلہ پیما مرکز نے بتیا ہے کہ آج جمعرات کی شب کراچی مین آنے والے زلزلہ کا مرکز شہر کے شمال مشرق میں پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔
زلزلہ تقریباً چالیس کلو میٹر گہرائی میں آیا، اس زلزلہ کی شدت ریخت سکیل نے 2 بتائی ہے۔
حجرے میں دھماکہ؛ سابق سینیٹر عباس آفریدی زخمی
کراچی شہر کے نیچے کئی فالٹ لائنیں ہیں جن میں حال ہی میں سیسمِک اکیٹیویٹی بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں ےک دوران کراچی میں دس سے زیادہ زلزلے آئے جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سب سے بڑے زلزلہ کی شدت ریختر سکیل پر 4 کے لگ بھگ تھی، باقی زلزلے اس سے کم شدت کے رہے۔
کراچی میں آنے والے زلزلوں سے کوئی بڑٓ نقصان تو نہین ہوا لیکن ہر مرتبہ زلزلے سے خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔
کراچی مین بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی عمارتیں انتہائی کمزور ہیں جن میں کثیر منزلہ کمرشل معارتین بھی ہیں، ایسی ہر عمارت میں سینکڑوں ہزاروں لوگ چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں مقیم ہیں۔ بہت سی پرانی عمارتیں از حد مخدوش ہو چکی ہیں۔ ان عمارتوں میں ایسے شہری رہ رہے ہیں جو انہیں ترک کے کے کسی بہتر جگہ پر رہائش اختیار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
کاہنہ میں سلنڈر دھماکہ
سندھ کی سوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں زیر زمین سیسمک ایکٹیویٹی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت ہر زلزلہ کے بعد عمارتوں میں ہونے والے کسی ممکنہ نقصان پر بھی متعلقہ اداروں کے ذریعہ گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔